1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مقروض يونان کے ليے اربوں کا دوسرا امدادی پيکج

آج برسلز ميں يونان کے قرضوں کے بحران کے مسئلے پر يورپی يونين کا خصوصی اجلاس شروع ہو گيا۔ اجلاس شروع ہونے سے کچھ ہی قبل جرمن چانسلر ميرکل، فرانسيسی صدر سارکوزی اور يونانی وزير اعظم پاپاندريو نے آپس ميں ملاقات کی۔

يونانی وزير اعظم پاپاندريو برسلز کی خصوصی کانفرنس ميں آ رہے ہيں

يونانی وزير اعظم پاپاندريو برسلز کی خصوصی کانفرنس ميں آ رہے ہيں

يونان کی مدد کے ليے 110 ارب يورو کے قرضوں کے پيکج کے ناکافی ہو جانے کے بعد اب يورپی يونين کے رياستی اور حکومتی سربراہ اس مقروض ملک کے ليے کم ازکم 115 ارب ڈالر کے دوسرے امدادی پيکج پر صلاح مشوروں کے ليے اس وقت برسلز ميں جمع ہيں۔

اس خصوصی سربراہ کانفرنس پر شديد دباؤ ہے کيونکہ يونان، آئر لينڈ اور پرتگال جيسے چھوٹے ممالک کے قرضوں کا بحران يورو زون کے اسپين اور اٹلی جيسے بڑے ممالک کو بھی اپنی لپيٹ ميں ليتا نظر آتا ہے۔

جرمن چانسلر ميرکل اور فرانسيسی صدر سارکوزی

جرمن چانسلر ميرکل اور فرانسيسی صدر سارکوزی

حقيقت تو يہ ہے کہ يورو زون کے وزرائے خزانہ کو پچھلے ہفتے ہی يونان کے ليے ايک دوسرا امدادی پيکيج منظور کرنا تھا، ليکن اختلافات کی وجہ سے ايسا ممکن نہيں ہو سکا۔ اس ليے اب اس خصوصی سربراہ کانفرنس سے بہت اونچی اميديں وابستہ کی جا رہی ہيں۔

يورپی کميشن کے سربراہ مانوئيل باروسو کا مطالبہ ہے کہ يونان کے قرضوں کی ادائيگی ميں نجی مالی اداروں کو بھی شريک کيا جائے۔ يہ يقين کسی کو بھی نہيں ہے کہ يونان اپنے قرضے خود ادا کرنے کے قابل ہو سکے گا۔ ليکن جرمنی،ہالينڈ اور فن لينڈ کا مطالبہ ہے کہ اگر يونان کو قرضوں کی کچھ چھوٹ دی جاتی ہے، تو اس کا بوجھ صرف ٹيکس دہندگان ہی کو نہيں، بلکہ پرائيويٹ بينکوں اور بيمہ کمپنيوں کو بھی برداشت کرنا چاہيے۔ تاہم اس کی شديد مخالفت پائی جاتی ہے۔ يورپی مرکزی بينک اور بہت سی يورپی حکومتيں اس کی مخالف ہيں۔

يونان کے جھنڈے پر يورو کے سکے

يونان کے جھنڈے پر يورو کے سکے

بعض ماہرين اور سياستدان يونان کے ايک باقاعدہ رياستی ديواليے اور اس کے يورو کرنسی زون سے نکل جانے تک کو امکان سے خارج نہيں سمجھتے۔ اُن کی تنبيہ ہے کہ لا محدود مالی مدد سے متاثرہ ممالک کی اصلاحات پر آمادگی مفلوج ہو جائے گی اور مضبوط ممالک کو مستقل طور پر کمزور ملکوں کو سہارا دينا پڑے گا۔ بعض کو انديشہ ہے کہ يورو کا بحران اور اس پر تنازعہ يورو زون کے اتحاد کو ريزہ ريزہ کر دے گا۔

جرمن وزير خارجہ ويسٹر ويلے نے کہا کہ وہ تمام لوگ جو اس وقت يورو اور يورپ کو اتنا اہم نہيں سمجھ رہے، اُنہيں يہ معلوم ہونا چاہيے کہ يہ خود جرمنی کے مفاد ميں ہے۔ انہوں نے کہا کہ يورو اور يورپ کے بغير جرمن معيشت کی حالت نہايت خراب ہوتی۔

برسلز سے ملنے والی تازہ ترين اطلاعات کے مطابق يونان کے نئے امدادی پيکيج ميں پرائيويٹ بينک اور انشورنس کمپنياں بھی حصہ ليں گی۔


رپورٹ: کرسٹوف ہاسل باخ، برسلز / شہاب احمد صديقی

ادارت: امجد علی

DW.COM