1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مقتول پاکستانی صحافی سلیم شہزاد سپرد خاک

نامعلوم افراد کی جانب سے اسلام آباد سے اغوا کے بعد قتل کیے جانے والے صحافی سلیم شہزاد کو کراچی میں سپرد خاک کر دیا گیا ہے۔ ملک بھر میں صحافتی تنظیمیں اپنے ساتھی کی ہلاکت کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔

مقتول پاکستانی صحافی سلیم شہزاد

مقتول صحافی سلیم شہزاد

ادھر امریکی وزیر خارجہ ہلیری کنٹن نے بھی سلیم شہزاد کے قتل کی مذمت کی ہے۔ اپنے ایک بیان میں کلنٹن نے کہا کہ سلیم شہزاد نے دہشت گردی اور خفیہ ایجنسیوں سے متعلق رپورٹنگ کے ذریعے ایسے مسائل کی نشاندہی کی، جن سے پاکستان کے استحکام کو خطرہ ہے۔ پاکستان میں اعلیٰ حکومتی عہدیداروں کی جانب سے اس صحافی کے قتل پر مذمت کے روایتی بیانات اور ہمدردی کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

وزیرداخلہ رحمان ملک کا کہنا ہے کہ سلیم شہزاد کے قتل کی تفتیش کے لیے ایک مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے اور ان کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔ انہوں نے کہا:’’اس قتل کے سب پہلوؤں کی تفتیش ہو گی لیکن دیکھنا یہ ہے کہ جو پہلی پوسٹمارٹم رپورٹ ہے، اس کے مطابق بڑے گہرے زخم ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ کسی نے ذاتی دشمنی نبھائی لیکن میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ اس معاملے کی تہہ تک ضرور پہنچیں گے۔‘‘

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی صدر عاصمہ جہانگیر نے بھی سلیم شہزاد کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے ان کے مقدمے کے سلسلے میں مفت قانونی معاونت مہیا کرنے کا اعلان کیا ہے

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی صدر عاصمہ جہانگیر نے بھی سلیم شہزاد کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے ان کے مقدمے کے سلسلے میں مفت قانونی معاونت مہیا کرنے کا اعلان کیا ہے

تاہم رحمان ملک اس سوال کا جواب دینے سے قاصر رہے کہ ماضی میں قتل کیے گئے سینکڑوں صحافیوں میں سے اب تک کسی ایک کے قاتلوں کا بھی سراغ کیوں نہیں لگایا جا سکا۔ وزیر داخلہ نے ان الزامات کی بھی تردید کی، جن کے تحت انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے کہا ہے کہ سلیم شہزاد کو خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی نے اغوا کیا تھا۔ رحمان ملک کا کہنا تھا کہ اگر ہیومین رائٹس واچ کے پاس اس بارے میں کوئی ثبوت ہے تو وہ ہمارے سامنے لائے، اس میں جو بھی ملوث ہوا، اس کے خلاف کارروائی ہوگی۔

دوسری جانب صحافی سلیم شہزاد کے بھائی وسیم شہزاد کا کہنا ہے کہ ان کے بھائی نے ہمیشہ سچ اور دیانتداری پر مبنی صحافت کی اور اپنے پیشے سے وفاداری میں جان سے گزر گئے۔ انہوں نے کہا:’’ہم دو ہی بھائی ہیں۔ یہ میرا بڑا بھائی تھا۔ زندگی کے اندر خلا پیدا ہو گیا ہے لیکن کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ اپنی زندگی میں کبھی زرد صحافت کی طرف گیا ہو۔ جب بھی اس نے لکھا، ہمیشہ پاکستان کے حق میں لکھا۔ اگر اس ملک کی حمایت میں لکھنا جرم ہے، تو ہاں ہم مجرم ہیں۔‘‘

سلیم شہزاد نے بتایا تھا کہ اُسے خفیہ اداروں کی جانب سے دھمکیاں مل رہی ہیں

سلیم شہزاد نے بتایا تھا کہ اُسے خفیہ اداروں کی جانب سے دھمکیاں مل رہی ہیں

سلیم شہزاد اس سال قتل ہونے والے تیسرے صحافی ہیں۔ اس سے قبل کراچی میں جیو ٹی وی کے رپورٹر ولی خان بابر اور مشرق اخبار سے منسلک نصر اللہ آفریدی کو پشاور میں قتل کر دیا گیا تھا۔ صحافیوں کی بین الاقوامی تنظیم رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز کے مطابق گزشتہ برس پاکستان میں 11 صحافی قتل کیے گئے۔ ماضی میں بھی بعض صحافیوں کے قتل ، اغوا اور ان پر تشدد کے حوالے سے خفیہ ایجنسیوں پر انگلیاں اٹھائی جاتی رہی ہیں، جس کا سرکاری سطح پر ہمیشہ انکار کیا گیا۔

دریں اثناء سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی صدر عاصمہ جہانگیر نے بھی سلیم شہزاد کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے ان کے مقدمے کے سلسلے میں مفت قانونی معاونت مہیا کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔ عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ حکومت عوام کے جان و مال کے تحفظ کا اپنا فرض پورا کرے جبکہ خفیہ ایجنسیوں کے حوالے سے قانون سازی کی جائے اور پھر اس پر سختی سے عملدرآمد بھی کیا جائے تا کہ اس تاثر کو ختم کیا جا سکے کہ خفیہ ادارے شہریوں کی ہلاکت اور اغوا میں ملوث ہیں۔

رپورٹ: شکور رحیم، اسلام آباد

ادارت: امجد علی

DW.COM

ویب لنکس