1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مقتول روسی اپوزیشن رہنما نیمزوف کی برسی، پوٹن کے خلاف ریلی

روس میں مقتول اپوزیشن سیاستدان بورس نیمزوف کی دوسری برسی کے موقع پر ان کی یاد میں نکالی گئی ایک بڑی ریلی میں اپوزیشن کے ہزارہا کارکنوں نے حصہ لیتے ہوئے ملکی صدر ولادیمیر پوٹن کے خلاف احتجاج کیا۔

Russland Gedächtnisaktionen zu ermordeten Oppositionnelen Boris Nemtsov (Reuters/T. Makeyeva)

روسی صدر پوٹن کے ناقد اپوزیشن رہنما بورس نیمزوف کو ٹھیک دو برس قبل ماسکو میں قتل کر دیا گیا تھا

روسی دارالحکومت ماسکو سے پیر ستائیس فروری کو موصولہ نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق اس ریلی کے شرکاء مقتول اپوزیشن رہنما بورس نیمزوف کی بڑی بڑی تصویروں کے علاوہ روس کے قومی پرچم بھی اٹھائے ہوئے تھے اور انہوں نے احتجاج کرتے ہوئے دارالحکومت ماسکو کی سڑکوں پر مارچ کیا۔

پوٹن سے متعلق سوال پر ٹرمپ کا حیران کن جواب، کریملن ناراض

گھریلو تشدد پر سزاؤں میں نرمی، روسی خواتین پریشان

روس کے ساتھ روابط، ’ٹرمپ کے مشیر کے خلاف تفتیش‘

اس ریلی کے منتظمین کے مطابق اس مظاہرے میں روسی حزب اختلاف کے قریب پندرہ ہزار کارکنوں نے شرکت کی جبکہ پولیس کے مطابق یہ تعداد تقریباﹰ پانچ ہزار تھی۔ اس موقع پر روسی سکیورٹی دستوں نے ریلی میں شامل اپوزیشن مظاہرین کو مسلسل اپنے گھیرے میں لے رکھا تھا۔

اس یادگاری مارچ میں شریک ایک بزرگ روسی خاتون شہری گالینا سولینا نے اے ایف پی کو بتایا، ’’ہم اس احتجاجی مارچ میں اس لیے شریک ہیں کہ ہم بورس نیمزوف کی ایمانداری اور ہمت کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے روسی حکام کو یہ بھی بتا سکیں کہ آج دو پورے برس بیت گئے ہیں لیکن روس ابھی تک بورس نیمزوف کو نہ بھولا ہے اور نہ ہی بھولے گا۔‘‘

Russland Gedächtnisaktionen zu ermordeten Oppositionnelen Boris Nemtsov (Reuters/T. Makeyeva)

مظاہرے کے قائدین میں سے ایک، سابق وزیر اعظم کاسیانوف کے چہرے پر ایک نامعلوم شخص نے سبز رنگ کا محلول بھی پھینک دیا تھا

اس بارے میں اے ایف پی نے یہ بھی لکھا ہے کہ روسی حکام نے نیمزوف کی برسی کے موقع پر اپوزیشن مظاہرین کو سخت حفاظتی انتظامات کے تحت ایک احتجاجی ریلی نکالنے کی اجازت تو دے دی تھی تاہم شرکاء کو ان کی خواہشات کے برعکس اس بات سے منع کر دیا گیا تھا کہ وہ مارچ کرتے ہوئے اس جگہ تک بھی جائیں جہاں دو ہزار پندرہ میں نیمزوف کو قتل کیا گیا تھا۔

اس مظاہرے کے دوران شرکاء نے ایسے پلے کارد بھی اٹھا رکھے تھے، جن پر کریملن کی سیاست پر تنقید کرتے ہوئے مختلف نعرے درج تھے اور ساتھ ہی مشرقی یوکرائن کے تنازعے میں روسی موقف کو بھی واضح تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

پوٹن نے ٹرمپ کی مدد کرنے کے ’احکامات‘ دیے، امریکی خفیہ ادارے

’پوٹن دنیا کی طاقتور ترین شخصیت‘، امریکی بزنس میگزین فوربز

اس یادگاری مارچ کے دوران ایک نامعلوم شخص نے روس کے سابق وزیر اعظم میخائل کاسیانوف کے چہرے پر احتجاجاﹰ سبز رنگ کا ایک محلول بھی پھینک دیا۔ یہ محلول کوئی زہریلا مواد نہیں تھا اور اس واقعے کے بعد کاسیانوف اس احتجاجی ریلی کے قیادت کرتے ہوئے دیگر شرکاء کے ساتھ اس مارچ میں شامل رہے۔

بورس نیمزوف موجودہ روسی صدر پوٹن کے سخت ناقد اور روس کے ایک ایسے انتہائی سرکردہ اپوزہشن رہنما تھے، جنہیں ٹھیک دو برس قبل ستائیس فروری 2015ء کے روز دارالحکومت ماسکو میں کریملن سے کچھ ہی فاصلے پر فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا تھا۔

Russland Gedächtnisaktionen zu ermordeten Oppositionnelen Boris Nemtsov (picture alliance/Sputnik/I. Pitalev)

پولیس نے مظاہرین کو ماسکو میں کریملن کے قریب اس جگہ تک جانے کی اجازت نہ دی، جہاں نیمزوف کو قتل کیا گیا تھا

اپنے قتل کے وقت نیمزوف اپنی شریک حیات کے ساتھ کریملن کے قریب ہی پیدل ایک پل پار کر رہے تھے۔ اس قتل کی دنیا بھر میں مذمت کی گئی تھی اور اس سلسلے میں چیچنیہ سے تعلق رکھنے والے پانچ مبینہ ملزمان کو گزشتہ برس اکتوبر سے اپنے خلاف عدالتی کارروائی کا سامنا ہے۔

ان ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے مبینہ طور پر 15 ملین روسی روبل یا قریب ڈھائی لاکھ یورو کی رقم کے بدلے کرائے کے قاتلوں کے طور پر بورس نیمزوف کو نشانہ بنایا تھا۔ تاہم نیمزوف کے اہل خانہ اور سیاسی حامیوں کے مطابق اس قتل کی اب تک کی جانے والی تفتیش میں روسی حکام نے یہ وضاحت کرنے کی کوئی کوشش ہی نہیں کی کہ مبینہ ملزمان کو مالی ادائیگی کرتے ہوئے اس سیاسی قتل کا حکم کس نے دیا تھا۔

DW.COM