1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مقتدیٰ الصدر کی واپسی، شاندار استقبال

عراق کے شیعہ عالم دین مقتدی الصدر اپنی ایران میں جلا وطنی ختم کر کے واپس عراق پہنچ گئے ہیں۔ ان کو عراق کے اندر امریکہ کا انتہائی سخت مخالف تصور کیا جاتا ہے۔

default

مقتدیٰ الصدر: فائل فوٹو

بدھ کے روز جب مقتدیٰ الصدر واپس اپنے وطن لوٹے تو ان کا عقیدت مندوں نے انتہائی والہانہ استقبال کیا۔ وہ تقریباً چار سال کے بعد عراق میں اپنے مضبوط گڑھ نجف پہنچے۔ واپسی کے اس سفر میں ان کے ہمراہ الصدر موومنٹ کے کئی دوسرے لیڈر اور ان کے قریبی ساتھی بھی شامل تھے۔ اس سلسلے میں واضح کیا گیا ہے کہ وہ اب نجف میں قیام کریں گے۔ عراقی شیعہ لیڈر کا گھر نجف شہر کے الحنانا قصبے میں واقع ہے۔

مبصرین کا خیال ہے کہ جیش مہدی کے لیڈر کی عراق واپسی اس ڈیل کا نتیجہ ہے جو وزیر اعظم نوری المالکی نے حکومت سازی کے لئے ان کے ساتھ چند ماہ پہلے کی تھی۔ کٹر شیعہ لیڈر اس وقت ایران منتقل ہو گئے تھے جب امریکی فوج ان کو سب سے بڑا خطرہ تصور کرنے لگی تھی اور ان کی تلاش کا عمل شروع کردیا گیا تھا۔ ان کے حامیوں نے امریکی فوج کے خلاف پرزور مسلح مزاحمت میں حصہ بھی لیا تھا۔ سن 2008 میں نوری المالکی نے جیش مہدی کے خلاف سخت ایکشن لیا تھا اور اب اس تحریک کے مسلح افراد نے تقریباً ہتھیار پھینک دیے ہیں۔

نجف شہر پہچنے پر ہزاروں افراد نے اپنے لیڈر کا استقبال کیا۔ اس موقع پر سکیورٹی اہلکار بھی موجود تھے۔ لوگوں نے الصدر کی واپسی کو ناقابل یقین قرار دیا اور استقبال کرنے والے تمام لوگ پرجوش دکھائی دے رہے تھے۔ واپس پہنچنے کے بعد سیاہ پگڑی پہنے ہوئے شیعہ لیڈر نے پیغمبر اسلام کے قریبی رفیق اور داماد، امام علی کے روضہ پر حاضری دی۔ حاضری کے بعد محافظوں کے نرغے میں مقتدیٰ الصدر اپنے گھر لوٹ گئے۔

Irak, Demonstration von Anhängern des radikalen Schiiten-Predigers Muktada al-Sadr in Sadr-City (Freies Bildformat)

شیعہ لیڈر مقتدیٰ الصدر کے حامی سن 2008 کے ایک مظاہرے میں

الصدر تحریک یا جیش مہدی کی مرکزی کمان کا یہ بھی کہنا ہے کہ عراق لوٹنے والے لیڈر انہی دنوں میں عراق میں سب سے سپریم شیعہ لیڈر آیت اللہ العظمیٰ علی السیستانی سے بھی ملاقات کریں گے۔

نوری المالکی کی دوسری مدت وزیر اعظم کے حوالے سے مقتدیٰ الصدر کا سیاسی رول عراقی سیاست میں اور مزید اہم ہو گیا ہے۔ ان کی حمایت اور مفاہمت سے ہی المالکی وزارت عظمیٰ کا دوبارہ منصب سنبھالنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ عراقی پارلیمنٹ کے ڈپٹی اسپیکر قصی عبدالوہاب، جیش مہدی سے تعلق رکھتے ہیں۔ عراقی سیاست کے مبصرین کا کہنا ہے کہ الصدر کے ساتھ ڈیل کے بعد ہی ایاد علاوی نے قومی حکومت میں شمولیت کا فیصلہ کیا تھا۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ الصدر کی واپسی نوری المالکی کی حکومت کے لئے بھی بہت فائدہ مند ہے اور یہ موجودہ حکومت کی واضح حمایت کا اشارہ بھی ہے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM

ویب لنکس