1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی مصنوعات پر لیبلنگ، اسرائیل خفا

یورپی کمیشن نے یہودی آباد کاروں والے علاقوں میں تیار کردہ اسرائیلی برآمدی مصنوعات پر مخصوص لیبل لگانے کو لازمی قرار دے دیا ہے۔ اسرائیل نے یورپی کمیشن کے اس فیصلے پر شدید احتجاج کیا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اسرائیل نے یورپی یونین کے اس فیصلے پر شدید تنقید کرتے ہوئے یورپی یونین کے سفیر کو طلب کر لیا ہے۔ اسرائیلی وزارت خارجہ کے ترجمان ایمانویل نہزون نے اسے ایک’ متعصبانہ‘ اقدام قرار دیا۔ ’’ ہمیں افسوس ہے کہ یورپی یونین نے اس طرح کا امتیازی اور غیر معمولی فیصلہ سیاسی بنیادوں پر کیا ہے۔ یہ قدم اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ کے لیے چلائی جانے والی مہم سے متاثر ہو کر اٹھایا گیا ہے۔ یہ اس حوالے سے بہت بھی نا مناسب وقت ہے کیونکہ اسرائیل کو آج کل دہشت گردی کی ایک نئی لہر کا سامنا ہے‘‘۔ توانائی کے اسرائیلی وزیر یووال اسٹائنر نے اسےسامعیت دشمنی سے تعبیر کیا ہے۔

یورپی کمیشن کے مطابق آئندہ سے یورپی صارفین کو علم ہونا چاہیے کہ وہ جو اسرائیلی مصنوعات خرید رہے ہیں، وہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں یہودی آباد کاروں کے پیداواری یونٹوں میں تیار کی گئیں یا باقی ماندہ اسرائیل میں۔

Jaffa Orangen aus Israel Flash-Galerie

اسرائیلی میڈیا کے مطابق یہ لیبل مقبوضہ مغربی کنارے، مشرقی یروشلم اور گولان کی پہاڑیوں والے علاقوں میں تیار کی جانے والی مصنوعات پر لگائے جائیں گے۔ یہ خصوصی شناختی لیبلنگ پھلوں، سبزیوں اور کاسمیٹکس مصنوعات کے لیے لازمی ہو گی۔

یورپی یونین ایک طویل عرصے سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے حوالے سے اسرائیل کو تنقید کا نشانہ بناتی آ رہی ہے۔ یورپی یونین کا مؤقف ہے کہ مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں نئی آبادکاری بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی اسرائیلی مصنوعات پر لیبل لگانے کا آئیڈیا یورپی یونین میں ایک عرصے سے گردش کر رہا تھا لیکن اس میں تیزی اس وقت آئی، جب سولہ ممالک کے وزرائے خارجہ نے یورپی یونین کے خارجہ امور کی سربراہ فیدریکا موگیرینی کو یہ اقدام اٹھانے کے لیے خط لکھا۔ خط لکھنے والوں میں برطانیہ، اٹلی اور فرانس بھی شامل تھے۔ برسلز حکام کا کہنا ہے کہ اگر اسرائیل نے مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں گرین لائن سے آگے تعمیرات کا سلسلہ جاری رکھا تو مزید تادیبی اقدامات پر غور کیا جائے گا۔