1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مقبوضہ علاقوں میں بستیوں کی تعمیر روکی جائے، کوارٹیٹ

دنیا کی چار بڑی طاقتوں نے فلسطین اور اسرائیل کو مابین تعطل کے شکار امن مذاکرات بحال کرنے کے لئےماسکو میں ایک ملاقات کی ۔ چار فریقی اجلاس میں امریکہ ، روس ، اقوام متحدہ اور یورپی یونین کے نمائندوں نے شرکت کی ۔

default

اس اجلاس میں یورپی یونین کی نمائندگی کیتھرتین ایشٹن نے کی

اجلاس میں شریک چاروں ممالک نے مشرقی یروشلم میں یہودی بستیوں کی تعمیر کے اسرائیل کے فیصلےکو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے تل ابیب حکومت سے فوری طور پر تعمیری منصوبے کو منجمد کرنے، علاقہ خالی کرانے اور مکانوں کو مسمار کرنےکے عمل کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا۔ بان کی مون نے کہا’ عالمی ’برادری مشرقی یروشلم میں نئے تعمیراتی منصوبے کے اعلان کی مذمت کرتی ہے۔‘ اس اجلاس میں شامل چاروں فریقوں کا کہنا ہے کہ یروشلم کی حیثیت کا تعین ایک دیرینہ مسئلہ ہے اور اسے بات چیت کے ذریعے ہی حل کیا جانا چاہیے۔

ان چاروں ممالک کے نمائندوں نے غزہ کی آبادی کو درپیش مشکلات پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے فلسطینی حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ مذکرات کی میز پر واپس آئیں۔ اس موقع پر امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے کہا کہ امریکہ اسرائیل تعلقات معمول کے مطابق ، مظبوط اور مستحکم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امن مذاکرات میں پیش رفت اسرائیل کے حق میں ہے۔ کلنٹن کا کہنا تھا ’ہمارے تعلقات گہرے اور دیرپا ہیں۔ ہم اس امر کا یقین رکھتے ہیں کہ دونوں ممالک کو قریب لانے کی یہ کوشش اسرائیل اور فلسطین دونوں کے حق میں ہے۔ اس لئے ہم چاہتے ہیں کہ یہ مذاکرات جلد سے جلد شروع ہو جائیں‘۔

Ban Ki-moon Medwedew Moskau

اقوم متحد کے سربراہ بان کی مون اور روسی صدر دمتری میدویدف

اقوام متحدہ، یورپی یونین، روس اور امریکہ کے نمائندوں پر مشتمل اس گروپ کے ماسکو منعقدہ اجلاس میں سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلئیر، امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن، یورپی یونین کے وزیر خارجہ کیتھیرین ایشٹن اور روسی وزیر خارجہ سیرگیف لاویروف کی جانب سے ایک مشترکہ علامیہ جاری کیا گیا جس میں اسرائیل فلسطین تنازعے کے حل کے ایک معاہدے کو دو سال کے اندر طے کرنے پر زور دیا گیا ہے۔

لاویروف کے بقول ’چار کے گروپ کے اس اجلاس میں شامل شرکاء اس امر پر متفق ہیں کہ اسرائیل اور فلسطین کو براہے راست مذاکرات پر آمادہ کرنے کے لئے ممکنہ ذرائعے استعمال کئے جانے چاہئیں۔ میرا خیال ہے کہ ہم نے آج جو مشترکہ علامیہ جاری کیا ہے وہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے بارے میں ہمارے موقف کی مکمل وضاحت کرتا ہے‘۔

اس گروپ کے تمام شرکا نے خاص طور سے غزہ کی صورتحال پرگہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ دریں اثنا اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنزل بانک کی مون نے کہا ہے کہ وہ ویک اینڈ پر غزہ پٹی کا دورہ کریں گے اور وہاں کے انسانوں کی صورتحال کو خود اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے۔ادھر مشرق وسطیٰ کے لئے امریکہ کے خصوصی منوب جاج مچل نے بھی آئندہ ویک اینڈ پر مشرق وسطیٰ کے دورے کا عندیہ دیا ہے۔ یاد رہے کہ اسرائیل کی جانب سے نئے مکانوں کی تعمیر کے فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے مچل نے رواں ہفتے مشرق وسطیٰ کا دورہ کرنے کا فیصلہ ملتوی کر دیا تھا۔

رپورٹ: کشور مصطفیٰ

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM