1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

مقامی بیوی نہیں ملی تو ’امپورٹ کرلو‘

جاپان اور جنوبی کوریا سمیت ایسے ایشیائی ممالک کے مرد جہاں اقتصادی خوشحالی زیادہ ہے، شادی کے لئے نسبتاﹰ غریب ممالک کی لڑکیوں کو ترجیح دے رہے ہیں۔

default

اس صورتحال کی بنیادی وجہ ایسے مردوں کے آبائی ملکوں میں لڑکیوں کا معاشی طور پر خود مختار ہونا ہے، جس کی وجہ سے وہ عام طور پر یا تو تنہا زندگی گزارنا پسند کرتی ہیں یا پھر ان کی اپنی پسند پر کم ہی مرد پورے اترتے ہیں۔

جاپانی حکومت کی جانب سے کرائے گئے ایک حالیہ سروے کے مطابق سال 1995ء کے مقابلے میں سال 2006ء میں غیرملکی خواتین سے شادی کرنے والے افراد کی تعداد میں 73 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔ اس عرصے کے دوران قریب 36 ہزار غیرملکی خواتین جاپانی مردوں کی بیویاں بنیں۔ ان میں سرفہرست فلپائن سے تعلق رکھنے والی خواتین رہیں جبکہ دوسرے نمبر پر چینی خواتین تھیں۔

جاپانی شہر اوساکا میں ایک ڈیٹنگ ایجنسی کے صدر توشیو ایساکا (Toshio Esaka) کا کہنا ہے کہ جاپانی مردوں میں ایشیائی دلہنیں خاص طور پر فلپائن اور چین سے تعلق رکھنے والی خواتین بہت زیادہ مقبول ہیں۔ ایساکا کے مطابق جاپان میں یہ صورتحال اور بھی مشکل ہوتی جا رہی ہے کیونکہ اب تو شہروں سے دور دیہی علاقوں کی خواتین بھی معاشرتی اور معاشی طور پر زیادہ خود مختار ہوتی جارہی ہیں اور عام طور پر غیرشادی شدہ رہنا ہی پسند کرتی ہیں۔

Flüchtlinge aus Mindanao

ایسی عورتیں جو اپنی اور اپنے اہل خانہ کی مالی اور سماجی حالت بہتر بنانے کی متمنی ہوتی ہیں، وہ غیر ملکیوں سے شادیاں کر لیتی ہیں۔

جنوبی کوریا میں ایسے ماہی گیر اور کسان جنہوں نے سال 2009ء کے دوران شادی کی، ان میں سے 35 فیصد کی دلہنیں غیرملکی تھیں۔ ان میں سے زیادہ تر خواتین کا تعلق چین اور ویت نام سے تھا۔

ان مثالوں سے شادی جیسے بندھن میں معاشی طور پر خوشحالی اور دولت کے بڑھتے ہوئے کردار کا اشارہ ملتا ہے۔ خوشحال ممالک کے ایسے افراد جنہیں اپنے وطن میں شادی کے لئے کوئی لڑکی نہیں ملتی، اپنی دولت کے بل بوتے پر غیر ملک سے دلہنیں ’خرید‘ لیتے ہیں۔

اس لین دین کے دوسرے سرے پر دراصل ایسی غریب اور معاشی طور پر خستہ حال خواتین ہوتی ہیں، جن کے لئے کسی امیر ملک کا غریب آدمی بھی ایک بڑا آسرا بن جاتا ہے اور وہ ایک خوشحال زندگی کے لئے اپنا گھر بار اور ملک تک چھوڑنے پر راضی ہو جاتی ہیں۔

کمبوڈیا میں انسانوں کی سمگلنگ کے خلاف کام کرنے والے ایک گروپ کے ڈائریکٹر یا ناووُتھ (Ya Navuth) کا کہنا ہے کہ اس صورت حال کی وجہ دراصل ایسی خواتین اور ان کے خاندانوں کی غربت ہے۔ ایسی عورتیں چونکہ اپنی اور اپنے اہل خانہ کی مالی اور سماجی حالت بہتر بنانے کی متمنی ہوتی ہیں، لہٰذا وہ غیر ملکیوں سے شادیاں کر لیتی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ان میں سے کچھ تو واقعی یہ مقصد حاصل کر بھی لیتی ہیں جبکہ کچھ کو دھوکے کے سوا اور کچھ بھی نہیں ملتا۔ یوں وہ ایک خریدار سے دوسرے کی ملکیت بنتی رہتی ہیں۔ انسانی حقوق کے لئے فعال اس سرکردہ کارکن کے مطابق کسی غیرملکی عورت کے حق ملکیت کے احساس کی وجہ سے ہی اس طرح کی خرابی ممکن ہوتی ہے۔

رپورٹ: افسر اعوان

ادارت: مقبول ملک