1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مفاہمتی حل نے مشکل ترین رکاوٹ عبور کر لی

امریکہ میں ڈیموکریٹس اور ری پبلکنز کے درمیان قرضوں کے تنازعے کے سلسلے میں طے ہونے والے سمجھوتے نے مشکل ترین مرحلہ عبور کر لیا ہے۔ ایوان نمائندگان نے اس سمجھوتے کی منظوری دے دی ہے۔

default

امریکہ کی دونوں بڑی جماعتوں کی قیادت کے درمیان طے پانے والے اس سمجھوتے پر رائے شماری پیر کی شام ایوان نمائندگان میں ہوئی۔ 269 ارکان نے اس سمجھوتے کے حق میں جبکہ 161 نے اس کے خلاف ووٹ دیے۔ اس طرح اس سمجھوتے کے حق میں اُس سے زیادہ ووٹ آئے، جتنی کہ ضرورت تھی۔

اس رائے شماری میں ڈیموکریٹس کے ہاں بھی ووٹ بٹا ہوا تھا، 95 اس کے حق میں تھے اور 95 اس کے خلاف۔ ری پبلکنز میں سے 174 نے اس سمجھوتے کے حق میں رائے دی جبکہ 66 نے اس کی مخالفت کی۔

ایوان نمائندگان میں اس سمجھوتے کی منظوری کافی مشکل تصور کی جا رہی تھی۔ اب یہ مرحلہ طے ہونے کے بعد دونوں بڑی جماعتوں کے درمیان گزشتہ کئی ہفتوں سے چلا آ رہا وہ تنازعہ ختم ہونے کے آثار دکھائی دینے لگے ہیں، جس نے نہ صرف امریکہ کے سیاسی نظام کو مفلوج کر کے رکھ دیا تھا بلکہ امریکہ کے بین الاقوامی حلیفوں کو بھی پریشان کر دیا تھا، مالیاتی منڈیوں کو ہِلا کر رکھ دیا تھا اور عالمی سطح پر امریکہ کی ساکھ کو نقصان پہنچایا تھا۔

دونوں پارٹیوں کے درمیان کئی ہفتوں کے تنازعے کے بعد تلاش کیا گیا حل یہ ہے کہ امریکہ کے ریاستی قرضوں کی حد میں، جو آج کل 14.3 ٹرلین ڈالر ہے، دو مراحل میں کم از کم 2.2 ٹرلین ڈالر کا اضافہ کر دیا جائے گا۔ ساتھ ساتھ ریاستی اخراجات میں آئندہ دس برسوں کے دوران 2.4 ٹرلین ڈالر کی کمی کر دی جائے گی۔ زیادہ پیسہ کمانے والے شہریوں کی آمدنی پر زیادہ ٹیکسوں کی وہ تجویز منظور نہیں ہو سکی، جو صدر باراک اوباما کی جانب سے پیش کی گئی تھی۔

امریکی صدر باراک اوباما ڈیموکریٹس اور ری پبلکنز کے درمیان سمجھوتہ ہو جانے کا اعلان کرتے ہوئے

امریکی صدر باراک اوباما ڈیموکریٹس اور ری پبلکنز کے درمیان سمجھوتہ ہو جانے کا اعلان کرتے ہوئے

تاہم ابھی بھی اس سمجھوتے کو ایک اور مشکل مرحلہ درپیش ہے اور وہ ہے، ڈیموکریٹ ارکان کی اکثریت کی حامل سینیٹ میں اس پر رائے شماری، جو آج منگل کو عالمی وقت کے مطابق سہ پہر چار بجے عمل میں آئے گی۔اگر اس رائے شماری میں غیر متوقع طور پر اس سمجھوتے کو رَد کر دیا گیا تو آج دو اگست کو امریکہ ریاستی طور پر دیوالیہ ہو جائے گا۔

زیادہ توقع البتہ یہی کی جا رہی ہے کہ سینیٹ میں اس سمجھوتے کو منظوری مل جائے گی، جس کے بعد صدر باراک اوباما اُس قانون پر دستخط کر دیں گے، جس میں امریکہ کے ریاستی قرضوں کی حد بڑھانے کا ذکر کیا گیا ہو گیا۔ اس طرح امریکی حکومت پھر سے اپنے بِل ادا کر سکے گی۔

تاہم آج سینیٹ میں بھی اس سمجھوتے کی منظوری کا یہ مطلب نہیں ہو گا کہ قرضوں کے سلسلے میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے اہل اور قابل اعتبار ہونے کے درجے میں ممکنہ کمی کا معاملہ حتمی طور پر ختم ہو جائے گا۔ اسی لیے بڑی بے چینی سے ریٹنگ ایجنسیوں کے رد عمل کا انتظار کیا جائےگا، جنہوں نے امریکہ کے ذمے واجب الادا بھاری قرضوں کے پیشِ نظر دھمکی دی تھی کہ وہ امریکہ سے AAA کا اونچا درجہ واپس لے لیں گی۔

رپورٹ: امجد علی

ادارت: عاطف توقیر

DW.COM

ویب لنکس