مغوی جرمن لڑکی کی لاش مل گئی، جرمن پولیس | حالات حاضرہ | DW | 18.08.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مغوی جرمن لڑکی کی لاش مل گئی، جرمن پولیس

جرمن پولیس نے گزشتہ کئی روز سے لاپتہ ایک نوجوان لڑکی کی لاش برآمد کر لی ہے۔ اس سترہ سالہ لڑکی کو اغوا کرنے والے نے اس کے والدین سے لاکھوں یورو تاوان طلب کیا تھا۔

منگل کے روز ایک پولیس ترجمان نے بتایا کہ اس لاپتہ لڑکی کی لاش مل گئی ہے۔ مشرقی جرمن شہر ڈریسڈن کے قریب ایک چھوٹے سے قصبے سے تعلق رکھنے والی اس لڑکی کی رہائی کے بدلے ایک اعشاریہ دو ملین یورو کا تاوان طلب کیا گیا تھا۔

بتایا گیا ہے کہ اس لڑکی کی لاش پولیس کو لامپرز ڈورف کے علاقے سے ملی۔ پولیس نے ساکسن صوبے کے دارالحکومت ڈریسڈن اور جنوبی جرمن صوبے باویریا سے دو افراد کو حراست میں بھی لیا ہے۔ پولیس کے مطابق گرفتار شدگان کی عمریں 39 اور 61 برس ہیں۔

یہ بات اہم ہے کہ 17 سالہ انیلی جمعرات کے روز اپنے والدین کے گھر سے ایک کتے کے ہمراہ باہر گئی تھی اور پھر لوٹ کر نہیں آئی۔ ڈریسڈن کے قریب واقعہ ایک گاؤں سے تعلق رکھنے والی اس لڑکی کے ساتھ گیا پالتو کتا تاہم مل گیا تھا۔

جرمن اخبار بلڈ میں یہ خبر شائع ہونے کے بعد کہ اس گمشدہ لڑکی کے والدین سے قریب سوا ملین یورو تاوان طلب کیا گیا ہے، پولیس نے اس لڑکی کی تلاش کے لیے کارروائیاں تیز کر دی تھیں۔ پولیس کے مطابق ابتدا میں انیلی کو گمشدگی کے اعتبار سے تلاش کیا جا رہا تھا، تاہم تاوان طلب کیے جانے کے بعد تفتیش کی سمت اغوا کی جانب مڑ گئی۔

پولیس اور انیلی کے والدین نے اغوا کاروں سے اپیل بھی کی تھی۔ پولیس کا بعد میں کہنا تھا کہ اپیل کیے جانے کے بعد اسے اس بچی کی تلاش میں معاونت کے 16 اشارے موصول ہوئے ہیں۔ انیلی ایک کاروباری شخص کی بیٹی تھیں اور ان کے والدین نے اغوا کاروں سے اپیل کی تھی کہ وہ ان کی بیٹی کو چھوڑ دیں۔ والدین کا کہنا تھا کہ وہ تاوان کی رقم بھی ادا کرنے کے لیے تیار ہیں تاکہ انیلی گھر واپس آجائے۔