1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

مغوی تھراپسٹ کی کامیابی، اغوا کار پولیس کے سامنے پیش ہو گیا

جرمنی کی ایک خاتون تھراپسٹ نے اپنے اغوا کے بعد قریب دو دنوں کے اندر اندر اپنے اغواکار کی اتنی کامیاب تھراپی کر دی کہ اپنے اس اقدام پر شرمندہ ملزم نے رضاکارانہ طور پر خود کو پولیس کے حوالے کر دیا۔

جرمنی کے مشرقی شہر وائیمار سے اتوار ستائیس نومبر کو ملنے والی نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں میں پولیس کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اس واقعے میں ملزم نے ایک تھراپسٹ کو گزشتہ جمعرات کے روز اغوا کر لیا تھا۔ لیکن اس کے بعد کے قریب دو دنوں میں مغوی خاتون تھراپسٹ اپنی مسلسل طبی نفسیاتی کوششوں کے ساتھ اغواکار کو اس بات کا قائل کرنے میں کامیاب ہو گئی کہ اسے خود کو پولیس کے حوالے کر دینا چاہیے۔

جرمنی کے مشرقی صوبے برانڈن برگ میں پیش آنے والے اس واقعے میں 50 سالہ تھراپسٹ کو اسی کے ایک مریض نے یرغمالی بنا لیا تھا۔ اپنی معالج کو اغوا کرنے والے اس ملزم نے پہلے تو اس خاتون کو مجبور کیا کہ وہ اسے اپنی گاڑی میں بٹھا کر وائیمار شہر کے مضافات میں گھومتی رہے اور پھر وہ مغوی خاتون کو لے کر پیدل ہی ایک قریبی جنگل میں روپوش ہو گیا تھا۔

اس نفسیاتی معالج کے اغوا کا علم ہونے پر پولیس نے ہیلی کاپٹروں اور جاسوس کتوں کی مدد سے اس خاتون اور ملزم کی تلاش شروع کر دی تھی۔ ڈی پی اے نے لکھا ہے کہ ملزم نے اس تھراپسٹ کو اغوا کرنے کے بعد اس پر تشدد بھی کیا تھا۔

Symbolbild Islam und Psychotherapie in Deutschland (AP / dpa / Okapia / Fotomontage: DW)

لیکن اس تشدد کے باوجود اس تھراپسٹ نے ملزم کو اس بات کا قائل کرنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں کہ اسے خود کو قانون کے حوالے کر دینا چاہیے۔ آخرکار جب 54 سالہ ملزم مان گیا تو یرغمالی تھراپسٹ نے پولیس کو اطلاع کر دی۔ جب مقامی پولیس اہلکار جنگل میں پہنچے تو ملزم نے بغیر کوئی مزاحمت کیے خود کو گرفتاری کے لیے پیش کر دیا۔

ملزم کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ پرتشدد شخصیت کا مالک ایک ایسا شخص ہے، جو ماضی میں مختلف نوعیت کے چند دیگر جرائم کا ارتکاب  بھی کر چکا ہے۔

پولیس نے اتوار کے روز بتایا کہ گرفتاری کے بعد ملزم کو ایک مقامی عدالت میں پیش بھی کر دیا گیا، جس نے اسے تفتیشی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دے دیا۔ ابتدائی تفتیش کے مطابق ملزم نے اپنی معالج تھراپسٹ کو باقاعدہ ایک منصوبے کے تحت اغوا کیا تھا۔

DW.COM