1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’مغوی ایرانی سفارتکار پاکستان سے بازیاب‘

ایران کے سرکاری ٹیلی وژن کے مطابق تقریبا ڈیڑھ سال قبل پاکستانی شہر پشاور سے اغواء کئے گئے ایرانی سفارت کار حشمت اللہ عطار زادے کو ایرانی خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے ایک پیچیدہ آپریشن کے بعد بازیاب کرا لیا ہے۔

default

ایرانی ریڈیو کا لوگو

Anschläge in Pakistan

پشاور میں آئے روز خودکش دھماکے ہوتے رہتے ہیں

پشاور میں تعینات ایرانی قونصل جنرل عباس علی عبداللٰہی کا کہنا ہے کہ ابھی اس حوالے سے کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ عطار زادے کو کس جگہ سے رہا کرایا گیا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ پشاور میں ایران کے سابق کمرشل اتاشی عطار زادے اب بحفاظت ایران پہنچ چکے ہیں۔ پاکستانی حکام نے بھی اس ایرانی سفارتکار کی بازیابی کی تصدیق کر دی ہے۔

حشمت اللہ عطار زادے کو 13 نومبر 2008ء کو نا معلوم مسلح افراد نے پشاور سے اس وقت اغواء کیا تھا جب وہ شہر کے حیات آباد نامی رہائشی علاقے میں اپنے گھر سے ایرانی قونصل خانے کی طرف جا رہے تھے۔ اغواء کے اس واقعے کے دوران مسلح اغواء کاروں نے ان کے محافظ کو قتل کردیا تھا۔ ابتداء میں ان کے اغواء کا الزام طالبان اور القاعدہ پر لگایا گیا تھا، لیکن علاقے میں کئی ایسے جرائم پیشہ گروہ بھی ہیں جو اپنی کارروائیوں کے لئے مذہب کا نام استعمال کرتے ہیں۔ تب ایران نے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے تہران میں پاکستانی سفیر کو بلا کر سرکاری طور پر اس واقعے کی وضاحت بھی طلب کی تھی۔

Mahmud Ahmadinedschad

ایرانی صدر محمود احمدی نژاد

پشاور پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے 130 کلومیٹر شمال مغرب کی جانب افغانستان جانے والی شاہراہ پرخیبرایجنسی کے قبائلی علاقے کے قریب واقع ہے۔ پشاور 1980ء کی دہائی میں جہادیوں اور جاسوسوں کا گڑھ بن گیا تھا جب امریکہ اور سعودی عرب خفیہ مالی امداد کے ذریعے انہیں مبینہ طور پرافغانستان سے سوویت یونین کو نکالنے کے لئے استعمال کرتے تھے۔ عطارزادے کے اغواء سے قبل ایک افغان سفارتکار کو بھی پشاور ہی سے اغواء کیا گیا تھا، جو تاحال بازیاب نہیں ہو سکے۔ پشاور ہی میں امریکہ کی ایک خاتون سفارتکار پر بھی حملہ کیا گیا تھا، جس میں وہ زندہ بچ گئی تھیں۔ گزشتہ سال بھی ایرانی قونصلیٹ کے ایک پاکستانی اہلکار کو نامعلوم افراد نے پشاور میں ان کی رہائش گاہ کے باہر قتل کر دیا تھا۔

ایرانی سفارتکار عطار زادے کی رہائی سے ایک ماہ قبل ایرانی خفیہ ایجنسیوں نے ایک عسکریت پسند سنی تنظیم جنداللہ کے سربراہ عبدالمالک ریگی کو گرفتار کر لیا تھا، جو کافی عرصے سے تہران حکومت کو مطلوب تھے۔ ایران نے اس گرفتاری کو اپنی کامیابی اور امریکہ اور برطانیہ کے منہ پر طمانچہ قرار دیا تھا۔ ریگی کو مبینہ طور پر ایران کے ایک مشرقی علاقے میں رکھا گیا ہے، جہاں ان سے تفتیش کی جا رہی ہے۔

ایرانی سفارتکار حشمت اللہ عطار زادے تقریبا سولہ ماہ تک لا پتہ رہے اور اس عرصے کے دوران کسی بھی فرد یا گروہ نے ان کے اغواء کی ذمہ داری قبول نہیں کی تھی۔

رپورٹ: بخت زمان/خبر رساں ادارے

ادارت: مقبول ملک

DW.COM