1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مغرب کے ساتھ تعلقات کی پالیسی، نتیجہ کیا نکلے گا؟

اعتدال پسند ایرانی صدر حسن روحانی نے اقتدار میں آتے ہی مغرب کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے لیے مذاکراتی عمل شروع کر دیا تھا لیکن کیا ان کی اس پالیسی کو عوامی تائید بھی حاصل ہے، اس کا فیصلہ جمعے کے روز ہوگا۔

صدر حسن روحانی کو چار سال کا عرصہ لگا ہے کہ ایرانی کی عالمی سطح پر تنہائی میں کمی واقع ہوئی ہے۔ اس دوران ان کی سب سے بڑی کامیابی مغربی ممالک کے ساتھ جوہری ڈیل تھی۔ لیکن نئے امریکی صدر آئندہ ویک اینڈ پر ایران کے روایتی حریف سعودی عرب کا دورہ کر رہے ہیں جبکہ انہوں نے ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ ختم کرنے کی بھی دھمکی دے رکھی ہے۔ اس کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ ایران کی مغربی ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی پالیسی کو بھی خطرہ ہے۔

Iran Wahl Hassan Rohani (ILNA)

صدر حسن روحانی کو چار سال کا عرصہ لگا ہے کہ ایرانی کی عالمی سطح پر تنہائی میں کمی واقع ہوئی ہے

ان انتخابات میں صدر حسن روحانی اور ابراہیم رئیسی کے مابین سخت مقابلہ ہوگا۔ یہ انتخابات کوئی بھی جیتے ایران کی خارجہ پالیسی میں کوئی بڑی تبدیلی واقع ہونے کی توقع کم ہی ہے۔ رئیسی نے بھی کہا ہے کہ وہ جوہری ڈیل ختم نہیں کریں گے لیکن ساتھ ہی ساتھ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ روحانی نے مغرب پر بہت زیادہ بھروسہ کیا ہے۔

Iran | Ebrahim Raisi (picture-alliance/AP Photo/V. Salemi)

رئیسی ایران میں پس پردہ کام کرتے رہے ہیں

چھپن سالہ رئیسی کا ٹیلی وژن پر ہونے والے مباحثے میں کہنا تھا، ’’ہمیں دشمنوں کے سامنے اپنی کمزوریوں کا ذکر نہیں کرنا چاہیے۔‘‘ باقی امیدواروں کی طرف سے انتخابات میں حصہ لینے سے پیچھے ہٹ جانے کی وجہ سے یہ مقابلہ رئیسی اور روحانی کے مابین ہے۔ 68 سالہ مذہبی رہنما روحانی نے اس صدارتی انتخاب کو ’زیادہ شہری آزادیوں‘ اور ’شدت پسندی‘ کے مابین فیصلہ قرار دیا ہے۔

غیرسرکاری عوامی جائزوں کے مطابق ابھی تک صدر حسن روحانی کو اپنے حریف امیدوار رئیسی پر سبقت حاصل ہے اور روحانی یہ انتخاب جیت سکتے ہیں۔ لیکن انہیں اندازوں سے کہیں زیادہ سخت مقابلے کا سامنا ہے کیوں کہ ان کے مخالف امیدوار کا کہنا ہے کہ روحانی کی سفارتی کوششوں سے نہ تو بے روزگاری میں کمی واقع ہوئی ہے اور نہ ہی غربت میں۔

رئیسی ایران میں پس پردہ کام کرتے رہے ہیں اور اسی وجہ سے رواں سال کے آغاز تک انہیں کم ہی لوگ جانتے تھے۔ رئیسی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے سابق طالب علم ایک قریبی اتحادی بھی ہیں۔ اس لیے انہیں طاقتور سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے پسندیدہ ترین امیدوار کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کے یہ انتخابات اس سمت کا تعین کریں گےکہ ایرانی عوام مذہبی شدت پسندی کی طرف جانا چاہتے ہیں یا پھر مزید شہری آزادیوں کی طرف۔