1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

مغرب کو تیونس کے عوام کی رائے کا احترام کرنا چاہیے، الیگزینڈر گوئبل

تیونس میں النہضہ نے سب سے زیادہ ووٹ حاصل کیے ہیں۔ تاہم رباط سے جرمن تبصرہ نگار الیگزینڈر گوئبل کے بقول کسی کو بھی اس بات کا اندازہ نہیں کہ یہ اعتدال پسند یہ اسلامی جماعت اقتدار میں آنے کے بعدکیا اقدامات اٹھاتی ہے۔

default

تیونس میں انتخابات کے بعد تشخص اور ثقافتی پہچان کے حوالے سے ایک نئی بحث کا آغاز ہو گیا ہے۔ اس بارے میں کوئی شک نہیں کہ انتخابات میں سب سے زیادہ ووٹ لینے والی النہضہ ایک متنازعہ سیاسی جماعت ہے۔ فیس بک پر تیونس کے نوجوان ایک دوسرے سے سوال کر رہے ہیں کہ کیا النہضہ انتخابات سے قبل کیے گئے اپنے وعدوں کا پاس کرتی ہے یا یہ جماعت شراب نوشی پر پابندی عائد کرنے یا پھر خواتین کے حجاب کی وکالت کرتی ہے۔ یہ ابھی واضح نہیں ہے۔

تبصرہ نگار الیگزینڈر گوئبل اس کا جواب نفی میں دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ تیونس کی نئی حکومت شہری حقوق کا خیال رکھے گی اور خواتین کے حقوق پر بھی قدغن نہیں لگائی جائے گی۔ النہضہ جمہوریت اور مذہب کو ہم آہنگی دیتے ہوئے ایک نئے سیاسی رویے کو فروغ دے گی۔ انتخابی مہم کے دوران اس جماعت نے اپنے آپ کو ترکی میں حکمران جماعت کی طرح اعتدال پسند ظاہر کیا ہے۔ اس کا کہنا ہےکہ مذہب کی اخلاقی حاکمیت ہوگی اور مستقبل میں تیار کیے جانے والے تعلیمی نظام میں اس بات کا خاص خیال رکھا جائے گا۔

Tunesien Wahlen Wahlplakat Flash-Galerie

مغربی دنیا کو تیونس کے عوام کی رائے کا احترام کرنا چاہے، الگیزینڈر گوئبل

یہ امر تیونس میں مذہب اور سیاست کو علیحدہ علیحدہ رکھنے کے خواہش مند حلقوں کے لیے پریشانی کا باعث ہے۔ لیکن اُن کے یہ تحفظات ابھی قبل از وقت ہیں کیونکہ تیونس عرب دنیا میں ایک حقیقی جمہوری ریاست بننے کی کوششوں میں ہے اور یہ مذہب کی شمولیت کے بغیر ممکن نہیں۔ اگرنظام حکومت میں اسلام کو محدود کر دیا گیا، تو فوراً ہی سابق آمر زین العابدین بن علی کے دورکی یاد تازہ ہوجائے گی۔ اُس وقت اسلام پسندوں کو جیلوں میں بند کر کے تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

الیگزینڈر گوئبل کے بقول تیونس میں خلافت قائم نہیں ہو سکتی کیونکہ النہضہ کوحکومت سازی میں دیگر جماعتوں کا ساتھ چاہیے۔ مغربی دنیا کو تیونس کے عوام کی رائے کا احترام کرنا چاہیے۔ وہ کہتے ہیں کہ مغربی دنیا جمہوریت کے فروغ کی بات تو کرتی ہے اور جیسے ہی کسی ملک میں کوئی اسلامی جماعت کامیاب ہو تو یہ رائے فوراً ہی تبدیل ہو جاتی ہے۔ ایسے مواقع پر مغرب یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ اسلام اور جمہوریت دو مختلف چیزیں ہیں۔ تبصرہ نگار الیگزینڈر گوئبل کے بقول ان کے لیے سب سے اہم بات یہ شعور ہے کہ آزادی کی طلب ایک معجزے کی طرح کسی کو خود بخود ہی ایک سیکولر معاشرے تک نہیں لے جاتی۔ اگرچہ مغربی دنیا میں ہم بڑے شوق سے ایسا ہوتا دیکھنا چاہیں گے۔ جمہوریت پسندوں کی طرح ہمیں اس پر افسوس ہے۔ لیکن جمہوریت پسندوں کی طرح ہی ہمیں اسے قبول بھی کرنا پڑے گا۔

تبصرہ: الیگزینڈر گوئبل

ترجمہ: عدنان اسحاق

ادارت : مقبول ملک

DW.COM