1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

’مغرب نے 1980ء میں افغان مزاحمت کی فوری حمایت کی‘

1979ء میں افغانستان پر سوویت حملے کے بعد مغربی طاقتوں نے ایک خفیہ ملاقات کی تھی، جس میں ’اسلامی مزاحمت‘ میں تعاون کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔ برطانوی حکومت کی طرف سے شائع کردہ ایک خفیہ فائل میں یہ انکشاف کیا گیا ہے۔

24 دسمبر 1979ء کو سوویت فوج نے افغانستان پر حملہ کیا تھا، جس کے بعد 1980ء میں اس وقت کی صورتحال پرغور کرنے کے لئے مغربی طاقتوں کی یہ ملاقات ہوئی تھی۔ 30 سال بعد عام کی جانے والی اس فائل کے مطابق اُس وقت برطانیہ، فرانس، مغربی جرمنی اور امریکہ کے سفارتکاروں نے 15جنوری کو پیرس میں ایک خفیہ ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات کا مقصد افغانستان پر سوویت حملے کے جواب میں حکمت عملی ترتیب دینا تھا۔

اگرچہ سوویت جنگ کے بارے میں ایسے انکشافات گاہے بگاہے سامنے آتے رہے ہیں تاہم برطانوی حکام کی طرف سے جاری کی گئی اس نئی فائل سے مزید کچھ حقیقتیں سامنے آئی ہیں۔ اس ملاقات میں امریکہ کی طرف سے تب کے قومی سلامتی کے مشیر Zbigniew Brzezinski شریک ہوئے تھے جبکہ برطانوی کابینہ کے سیکریٹری رابرٹ آرمسٹرانگ نے اپنے ملک کی نمائندگی کی تھی۔ اس دوران سوویت حملے کے خلاف سر گرم عمل مجاہدین کا ساتھ دینے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔

Zbigniew Brzezinski in Pakistan

Zbigniew Brzezinski پاکستان میں، سن1980ء

اس ملاقات کے بعد آرمسٹرانگ نے برطانوی سرکاری رپورٹ تیار کی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ سوویت حملے کے خلاف مجاہدین کی مدد کرنے کے لئے کافی کچھ کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میٹنگ میں یہ اتفاق رائے ہوا کہ مجاہدین کی مدد کرنا مغربی ممالک کے حق میں ہو گا۔’ یہ مغربی ممالک کے مفاد میں ہو گا کہ مغربی ممالک مجاہدین کو نہ صرف تقویت دیں بلکہ ان کی مدد بھی کریں۔‘

اس میٹنگ میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ جب تک افغان مجاہدین سوویت حملے کے خلاف مزاحمت کرنا چاہتے ہیں اورجب تک پاکستان اپنی سرحدوں کو استعمال کرنے کی اجازت دیتا ہے، مغربی ممالک کی مدد جاری رہے گی۔ آرمسٹرانگ نے کہا تھا،’ افغانستان میں گوریلا جنگ کی تحریک اسلامی جنگ کا خاصا ہے، اور اس تحریک کو ہمیں مزید چلانا چاہئے۔‘

مبصرین کا خیال ہے کہ سوویت حملے کو ناکام بنانے کے بعد افغان مجاہدین کی مزاحمت نے آخر کار باغیانہ خیالات کو جنم دیا، جس کے نتیجے میں دہشت گرد تنظیم القاعدہ کو بھی تقویت ملی۔ 2001ء میں امریکہ پر دہشت گردانہ حملوں کے بعد امریکی اتحادی افواج نے افغانستان پر حملہ کیا تاکہ وہاں موجود انتہا پسندوں کا خاتمہ کیا جا سکے لیکن نو سال کا عرصہ بیتنے کے بعد بھی افغان طالبان باغیوں کی مزاحمت جاری ہے۔

سن 2010ء کا سال افغانستان میں متعین مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے لئے تباہ کن ثابت ہوا ہے۔ اس سال کے دوران نیٹو کے سات سو فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔ جس کا مطلب ہے کہ روزانہ وہاں دو غیر ملکی فوجی طالبان باغیوں کی پر تشدد کارروائیوں کا نشانہ بنے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM