1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مغرب دخل اندازی مت کرے ، شامی صدر کا انتباہ

شامی صدر بشار الاسد نے کہا ہے کہ ان کے عوام بیرونی مداخلت کو برداشت نہیں کریں گے۔ اپنے ایک نشریاتی انٹرویو میں انہوں نے کہا ہے کہ ملک میں حکومت مخالف مظاہرے، مسلح تنازعہ کی شکل اختیار کرتے جا رہے ہیں۔

default

شامی صدر بشار الاسد

شامی صدر بشار الاسد کی طرف سے حکومت مخالف مظاہرین پر خونی کریک ڈاؤن جاری ہے۔ اس صورتحال میں مغربی ممالک بشار الاسد پر زور بڑھا رہے ہیں کہ وہ صدارت کے عہدے سے الگ ہو جائیں۔ اقوام متحدہ کے محتاط اندازوں کے مطابق شام میں گزشتہ پانچ ماہ سے زائد عرصے سے جاری ان مظاہروں کے نتیجے میں کم ازکم دو ہزار افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔

اگرچہ ابھی تک کسی بھی ملک نے ایسا کوئی منصوبہ تجویز نہیں کیا کہ بشار الاسد کی حکومت کے خلاف بھی ویسا ہی فوجی آپریشن کیا جائے، جیسا کہ مغربی دفاعی اتحاد نیٹو نے لیبیا کے رہنما معمر قذافی کے خلاف شروع کر رکھا ہے تاہم امریکہ سمیت یورپی یونین نے بشار الاسد سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ ضرور کیا ہے۔

NO FLASH Protest gegen Bashar Assad in Syrien

شام میں حکومت مخالف مظاہرین اپنا احتجاج جاری رکھے ہوئے ہیں

اتوار کو نشریاتی انٹرویو میں بشار الاسد نے خبردار کیا کہ شام کے خلاف مسلح ایکشن کے دور رس نتائج برآمد ہوں گے،’ شام کے خلاف کسی بھی قسم کے فوجی ایکشن کے نتیجے میں، حملہ آور کو، دور رس نتائج بھگتنا پڑیں گے‘۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کچھ ہفتوں کے دوران شام میں صورتحال مزید خراب ہو گئی ہے، ’ ہم اس صورتحال سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ میں پریشان نہیں ہوں‘۔

اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کے مغربی مطالبات کو رد کرتے ہوئے بشار الاسد نے کہا کہ امریکی صدر باراک اوباما سمیت ان مغربی رہنماؤں کو اقتدار چھوڑنا چاہیے، جنہوں نے عراق، افغانستان اور لیبیا میں خون بہایا ہے۔ بشار الاسد نے کہا کہ ان کی حکومت کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے اور وہ اصلاحات کی متعارف کروانے کے لیے ابتدائی اقدام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امکان ہے کہ آئندہ برس فروری میں کثیر الجماعتی بنیادوں پر انتخابات منعقد کروائیں جائیں۔ مارچ میں بھڑکنے والے ان مظاہروں کے بعد بشار الاسد نے چوتھی مرتبہ سرکاری ٹیلی وژن پر عوام کی ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔

دوسری طرف اقوام متحدہ کی انسانی امداد کی خصوصی ٹیم شام کے بحران کا جائزہ لینے دمشق پہنچ چکی ہے۔ اقوام متحدہ کے انسانی امور کی رابطہ کاری کے دفتر کے جنیوا بیورو کے سربراہ رشید خالقوف کی زیر سربراہی یہ ٹیم شام میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور عام شہریوں کی شکایات کا جائزہ لے رہی ہے۔ یہ ٹیم پچیس اگست تک شام کے مختلف علاقوں کا دورہ کرے گی۔ بشار الاسد نے یقین دہانی کروا رکھی ہے کہ یہ ٹیم شام میں جہاں جانا چاہے جا سکتی ہے اور اس سے مکمل تعاون کیا جائے گا۔

NO FLASH Syrien Militär

شامی سکیورٹی فورسز مظاہرین کے خلاف کارروائی جاری رکھے ہوئے ہیں

دریں اثناء شام کی موجودہ صوتحال پر اقوام متحدہ کی ہیومن رائٹس کونسل کا ایک خصوصی اجلاس آج منعقد کیا جا رہا ہے۔ چوبیس رکنی کونسل کی کوشش ہو گی کہ وہ شام میں حکومت مخالف مظاہروں کے خلاف فوجی کارروائی کو روکنے کے لیے بشار الاسد کی حکومت پر دباؤ بڑھائے۔ خبر ایجنسی اے ایف پی نے اس کونسل کے ذرائع سے بتایا ہے کہ پیر کو ہونے والے اس اجلاس میں اس بات کا بھی جائزہ لیا جائے گا کہ بشار الاسد کی حکومت انسانی حقوق کے خلاف زیادتیوں کی مرتکب ہو رہی ہے یا نہیں۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: حماد کیانی

DW.COM

ویب لنکس