1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مغرب اور مشرق کی دفاعی صلاحیت میں تفریق کم ہوتی ہوئی

معاشی حالات کے پیش نظر مغربی ممالک اپنے دفاعی اخراجات میں کمی اور ترقی کرتی معیشتوں والے مشرقی ممالک اپنے دفاعی بجٹوں میں اضافہ کر رہے ہیں۔ اس باعث مشرق اور مغرب کی دفاعی صلاحیتوں کا فرق بتدریج کم ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

default

لندن میں قائم ایک معروف تھنک ٹینک انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ فار اسٹریٹیجک اسٹڈیز (IISS) کی طرف سے عالمی فوجی توازن کے حوالے سے ایک تازہ رپورٹ جاری کی گئی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق دفاعی صلاحیت میں چونکہ فرق کم ہورہا ہے لہذا مختلف ممالک کےدرمیان ٹکراؤ کے خطرات بڑھ رہے ہیں۔

IISS کے مطابق معاشی طور پر طاقت کی منتقلی کے اثرات پہلے سے ہی فوجی قوت پر ظاہر ہونا شروع ہوگئے ہیں اور دفاعی طور پر مشرق و مغرب کے درمیان موجود فرق میں کمی واقع ہورہی ہے۔ IISS کے ڈائریکٹر جنرل جان چِپمین John Chipman کے مطابق: "مغربی ممالک کے دفاعی بجٹ دباؤ کا شکار ہیں اور ان کی فوجی سازوسامان کی خریداری میں کمی واقع ہوئی ہے۔ اس کے برعکس دوسرے خطوں خاص طور پر ایشیا اور مشرق وُسطیٰ میں فوجی اخراجات اور سامان حرب کے حصول کی کوششیں بڑھ گئی ہیں۔ اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ فوجی طاقت کے توازن میں عالمی سطح پر تبدیلی کا عمل شروع ہوچکا ہے۔"

Geplantes US-Raketenschild in Osteuropa US Missile Defense System Plans englisch Infografik

" امریکہ نے سال 2010ء کے دوران دفاعی مد میں 693 بلین ڈالر خرچ کیے"

چِپمین کے بقول بعض ایشیائی ممالک اور خاص طور پر چین اپنے دفاعی اخراجات میں ہرسال دو عددی اضافہ کررہے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ مغربی ممالک ٹیکنالوجی کے میدان میں اپنی برتری بھی اب بتدریج کھوتے چلے جارہے ہیں، خاص طور پر راڈار سے اوجھل رہنے والی ٹیکنالوجی اور خلائی جنگی صلاحیت کے حوالے سے۔

دفاعی حوالے سے لگائے جانے والے زیادہ تر اندازوں کے مطابق امریکہ کے سالانہ دفاعی اخراجات دنیا کے تمام ممالک کی طرف سے اس مد میں کیے جانے والے مجموعی اخراجات کے نصف کے برابر ہیں۔ ان اخراجات کا زیادہ حصہ عراق اور افغانستان میں موجود اس کی فوج پر اٹھتا ہے۔

China Militärparade

"2010ء میں چین نے دفاع پر 76 بلین ڈالر خرچ کیے"

لندن میں قائم تھنک ٹینک IISS کی تازہ رپورٹ کے مطابق امریکہ نے سال 2010ء کے دوران دفاعی مد میں 693 بلین ڈالر خرچ کیے جو کہ اس کی مجموعی قومی پیداوار کے 4.7 فیصد کے برابر ہے۔ چین کی طرف سے دفاع پر 76 بلین ڈالر خرچ کیے گئے اور یہ رقم اس کی مجموعی قومی پیداوار کے 1.3 فیصد کے برابر ہے۔ برطانیہ نے سال 2010ء کے دوران اپنی قومی پیداوار کا 2.5 فیصد دفاع پر خرچ کیا اور یہ رقم 57 بلین ڈالرز بنتی ہے۔

لندن کے تھنک ٹینک کے سربراہ کے مطابق چین اور امریکہ کے درمیان دفاعی بجٹ کی تفاوت اگلے 15 سے 20 سالوں کے درمیان برابر ہو جانے کے قوی امکانات ہیں۔

رپورٹ: افسراعوان

ادارت: عابد حسین

DW.COM

ویب لنکس