مغرب اور مسلم دنیا کے درمیان ’مثبت تعلق‘ ضروری ہے، عالمی ہائی کمشنر برائے مہاجرین | مہاجرین کا بحران | DW | 05.10.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

مغرب اور مسلم دنیا کے درمیان ’مثبت تعلق‘ ضروری ہے، عالمی ہائی کمشنر برائے مہاجرین

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے سربراہ نے کہا ہے کہ مغربی اور مسلم دنیا کے دنیا کے مابین مثبت تعلق مہاجرین کے بحران کے حل کے لیے انتہائی ضروری ہے۔

اقوام متحدہ کی مہاجرین کی ایجنسی کے ہائی کمشنر انٹونیو گُٹیریس نے پیر کے روز بیان دیا کہ یورپ میں مہاجرین کے بحران کے حل کے لیے مسلم دنیا کے ساتھ اس کے بہتر تعلق کی اشد ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسلام کے خلاف متعصبانہ رویہ ختم کرنا وقت کی اولین ضرورت ہے، کیوں کہ اسی کے ذریعے شدت پسند نظریات کی راہ روکی جا سکتی ہے۔ ہائی کمشنر برائے مہاجرین نے کہا کہ عراق، شام اور دیگر جنگ زدہ ممالک بشمول جنوبی سوڈان، برونڈی، یمن اور لیبیا کے متاثرین کی امداد کے لیے سرمایے کی اشد ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کا انسانی بنیادوں پر امداد کے 33 ادارے مالی طور پر خستہ حالی کا شکار ہو چکے ہیں اور یہ تمام ایجنسیاں 82 ملین متاثرہ افراد کی مدد میں مصروف ہیں، جب کہ ان کے پاس موجود سرمایہ درکار سرمایے کا حجم صرف 42 فیصد ہے۔

گُٹریس نے مزیدکہا کہ رواں برس یونان پہنچنے والے مہاجرین کی تعداد چار لاکھ ہے، جس کی سب سے بڑی وجہ شامی خانہ جنگی ہے۔

ترک اور یورپی رہنماؤں کی ملاقات:

UN Soldaten im Südsudan

جنگ زدہ علاقوں سے لاکھوں افراد یورپ پہنچ چکے ہیں اور یہ بہاؤ اب بھی جاری ہے

مہاجرین کے بحران کے تناظر میں یورپی یونین اور ترکی کے رہنماؤں نے پیر کے روز برسلز میں ملاقات کی۔ ترک صدر رجب طیب ایردوآن اس مسئلے پر بات چیت کے لیے برسلز پہنچے ہیں۔ یورپی یونین کی کوشش ہے کہ مہاجرین کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے انقرہ حکومت کی مزید امداد کی جائے، تاکہ شام اور عراق سے ترکی کے راستے یورپ پہنچنے والے مہاجرین کا سیلاب روکا جا سکے۔ یورپی یونین ترکی میں نئی مہاجر بستیوں کے قیام اور پہلے سے موجود مہاجرکیمپوں میں سہولیات کی فراہمی جیسے معاملات پر ایردوآن سے بات چیت میں مصروف ہے۔

ایردوآن اپنے اس دورے میں یورپی کونسل کے سربراہ ڈونلڈ ٹُسک اور یورپی کمشین کے سربراہ ژاں کلوڈ ینکر کے علاوہ یورپی پارلیمان کے صدر مارٹِن شُلس سے بھی مل رہے ہیں۔

یورپی کمشین کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یورپی یونین ترکی کے ساتھ ’ضروری معاملات پر باہمی مفادات میں اعتمادسازی‘ کو اہم تصور کرتی ہے، تاکہ ترکی مہاجرین کے بحران میں اہم کردار ادا کر سکے۔

واضح رہے کہ ترکی میں اس وقت قریب دو ملین شامی مہاجرین پناہ لیے ہوئے ہیں، تاہم غربت اور افلاس کے مارے ان مہاجرین میں سے ہزاروں نے حالیہ کچھ عرصے میں ترک سرحد سے یونان یا بلغاریہ کے راستہ مغربی یورپ کا رخ کیا ہے۔

یورپی سرحدوں کی سخت نگرانی:

یورپی سرحدی ایجنسی نے کہا ہے کہ اسے یورپی سرحدوں کی حفاظت کے لیے مزید سینکڑوں محافظ درکار ہیں، تاکہ یورپ سرحدیں عبور کرنے والے مہاجرین کی نشان دہی ہو سکے۔

یورپی سرحدی ایجنسی فرنٹ ایکس نے یورپی یونین اور شینگن رکن ریاستوں نے گزشتہ ہفتے اپیل کی کہ وہ 775 ماہرین مہیا کریں، تاکہ مہاجرین کی شناخت ہو سکے۔ اس کے علاوہ ایجنسی نے رکن ریاستوں سے مترجم مہیا کرنے کی بھی درخواست کی ہے۔

ایجنسی کے مطابق ان اہلکاروں کو یونان اور اٹلی کی سرحدوں پر رواں ماہ ہی تعینات کر دیا جائے گا، کیوں کہ انہی دو ممالک میں سب سے زیادہ مہاجرین داخل ہو رہے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ ان ماہرین کے ذریعے یہ دیکھا جائے گا کہ آیا، یورپ پہنچنے والے کسی شخص کی سیاسی پناہ کی درخوات قابل اعتبار ہے یا نہیں، یعنی شامی یا افغان باشندوں کی درخواستوں کو فوراﹰ نمٹا کر انہیں رجسٹرڈ کیا جائے گا جب کہ ایسے افراد جو صرف مالی فوائد کے حصول کے لیے یورپ پہنچنے ہیں، انہیں وہیں سے ان کے آبائی ملکوں میں واپس بھیج دیا جائے گا۔