1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مغربی موصل پر قبضے کے لیے فیصلہ کن جنگ شروع

عراقی فورسز گزشتہ برس اکتوبر میں شروع ہونے والے فوجی آپریشن کے دوان پہلی مرتبہ عراق کے دوسرے بڑے شہر موصل کے مغربی حصے میں داخل ہو گئی ہیں۔ یہ حالیہ برسوں میں عراقی فورسز کا سب سے بڑا فوجی آپریشن ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق عراق کے دوسرے بڑے شہر موصل پر قبضے کے لیے جاری آپریشن میں ہزاروں عراقی فوجی شریک ہیں لیکن اس کے باوجود اس شہر کے مکمل قبضے کے لیے کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔

میڈیا اطلاعات کے مطابق سابق فوجی بیس غزلانی پر قبضے کے بعد جمعے کے روز عراقی ایلیٹ فورسز المامون نامی علاقے میں داخل ہونے میں کامیاب ہوئیں۔ بتایا گیا ہے کہ سرکاری فوجیں دریائے دجلہ کے قریب پہنچ چکی ہیں، جو اس شہر کو دو حصوں میں تقسیم کرتا ہے۔

اس پیش قدمی کے دوران عراقی زمینی دستوں کو امریکی عسکری اتحاد اور عراقی فضائیہ کے ہیلی کاپٹروں کی مدد بھی حاصل ہے۔ بتایا گیا ہے کہ امریکی اور غیرملکی فوجی مشیر پہلی صفوں میں شامل ہو کر امداد فراہم کر رہے ہیں۔ عراقی کمانڈروں کے مطابق انہیں یقین تھا کہ سخت مزاحمت کی جائے گی لیکن ابھی تک داعش کی طرف سے کیے جانے والے حملے محدود ہیں۔

تاہم یہ بات واضح ہے کہ اس مغربی حصے پر قبضہ کرنا کوئی آسان کام نہیں ہوگا کیوں کہ یہ ایک قدیم شہر ہے اور اس کی گلیاں تنگ ہیں۔ ماہرین کے مطابق گاڑیوں کا گلیوں کے اندر داخل ہونا ناممکن ہے اور عراقی فورسز کو آخر کار گھمسان کی جنگ لڑنا ہو گی۔ علاوہ ازیں یہ گنجان آبادی والا شہر ہے۔

ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ عراقی فورسز اسی طرح پیش قدمی جاری رکھیں گی یا نہیں۔ امریکی خفیہ رپورٹوں کے مطابق اس شہر میں داعش کے تقریبا دو ہزار جنگجو ہو سکتے ہیں۔ قبل ازیں موصل آپریشن کے آغاز پر یہ کہا گیا تھا کہ وہاں داعش کے تقریباﹰ پانچ سے سات ہزار جنگجو موجود ہیں۔

 امدادی گروپوں کے اندازوں کے مطابق موصل کے مغربی حصے میں تقریباﹰ ساڑھے چھ لاکھ شہری موجود ہیں اور ان میں سے بچوں کی تعداد تقریبا ساڑھے تین لاکھ بنتی ہے۔

 عراقی حکام نے مغربی حصے پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے آپریشن کا آغاز گزشتہ اتوار کے روز کیا تھا اور سرکاری دعوے کے مطابق ابھی تک اس علاقے میں تیرہ اہم اسٹریٹیجک دیہات پر قبضہ کیا جا چکا ہے۔