1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مغربی ممالک مداخلت نہ کریں، قذافی کی دھمکی

قذافی کی حامی فورسز اور حکومت مخالف طاقتوں کے مابین ملک کے مشرقی حصے میں جھڑپیں جاری ہیں۔ برغا نامی شہر میں تیل کی تنصیبات کو دوبارہ اپنے قبضے میں کرنے کے لیے حکومتی فورسز بھاری اسلحے کا استعمال بھی کر رہی ہیں۔

default

اگرچہ حکومت نےکہا ہے کہ ان کی فورسز نے برغا کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے تاہم حکومت مخالف طاقتوں نے اس اہم علاقے کو دوبارہ اپنے قبضے میں لینے کا دعویٰ کیا ہے۔ اسی دوران معمر قذافی نے ایک مرتبہ پھراصرار کیا ہے کہ وہ باغیوں کے خلاف اپنی لڑائی جاری رکھیں گے۔

اڑسٹھ سالہ قذافی نے اپنے ایک تازہ نشریاتی خطاب میں مغربی ممالک کو خبردار کیا ہے کہ اگر انہوں نے مداخلت کی تو اس کے نتیجے میں لیبیا کے ہزاروں باشندے مارے جائیں گے۔ انہوں نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ تشدد کے اصل محرکات جاننے کے لیے آزادانہ انکوائری کروائے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ نے ’جھوٹی اطلاعات‘ کی بنیاد پر لیبیا کے خلاف قرار داد منظور کی ہے۔

سرکاری ٹیلی وژن پر براہ راست نشر کیے گئے اپنے خطاب میں قذافی نے ایک مرتبہ پھر کہا کہ ملک میں بد امنی کے پیچھے القاعدہ کا ہاتھ ہے اور القاعدہ کے انتہا پسند لیبیا اور وہاں موجود تیل کے ذخائر پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ قذافی نے کہا کہ وہ اپنی آخری سانس تک لڑائی جاری رکھیں گے۔

Libyen Unruhen Gaddafi Tripolis 20.02.2011 NO FLASH

قذافی نے ایک بار پھر کہا ہے کہ ملک میں انتشار پھیلانے والے القاعدہ کے کارکن ہیں

گزشتہ چالیس برسوں سے لیبیا پر حکمرانی کرنے والے قذافی نے دعویٰ کیا کہ بن غازی کے شہریوں نے ان سے اپیل کی ہے کہ حکومت انہیں مسلح گروہوں سے بچائے۔ خیال رہے کہ لیبیا میں مظاہروں کا سلسلہ بن غازی سے ہی شروع ہوا تھا۔

دوسری طرف مغربی ممالک لیبیا میں نو فلائی زون قائم کرنے پر اپنی بحث جاری رکھے ہوئے ہیں۔ برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا ہے کہ نو فلائی زون کے قیام سے قذافی کی طرف سے عوام پر کی جا رہی زیادتیوں میں کمی واقع ہو گی۔ دریں اثناء امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے خبردار کیا ہے کہ اگر قذافی اقتدار سے الگ نہیں ہوتے تو ملک بھر میں خانہ جنگی شروع ہو جائے گی۔

دریں اثناء اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ لیبیا میں صورتحال ایک بحران کی شکل اختیار کر گئی ہے۔ عالمی ادارے نے زور دیا ہے کہ تیونس کے سرحدی علاقوں پر جمع ہونے والے افراد کو فوری طور پر محفوظ مقامات تک منتقل کیا جانا چاہیے۔ ایک اندازے کے مطابق اب تک لیبیا سے ایک لاکھ چالیس ہزار لوگ نکل چکے ہیں، ان میں سے زیادہ تر غیر ملکی تھے۔ قریب دو ہفتوں سے حکومت مخالف مظاہروں کے نتیجے میں کم از کم ایک ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM