1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مغربی ممالک شام میں دوہرا کھیل کھیل رہے ہیں، پوٹن

روسی صدر ولادیمر پوٹن نے جمعرات کے روز الزام لگایا ہے کہ مغربی ممالک شام میں دوہرا کھیل کھیلنے میں مصروف ہیں۔ ادھر مبصرین کے مطابق شام میں روسی مداخلت پوٹن کے لیے ملکی سطح پر مقبولیت میں اضافے کا سبب بنی ہے۔

جمعرات کے روز سیاسی ماہرین کے گروپ والدائی کلب سے اپنے خطاب میں ولادیمیر پوٹن نے کہا کہ مغرب کا رویہ مختلف ’دہشت گرد گروہوں‘ کے ساتھ مختلف ہے۔ امریکی قیادت میں بین الاقوامی اتحاد عراق اور شام میں دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ کے خلاف فضائی کارروائیاں کر رہا ہے، جب گزشتہ ماہ کے آخر سے روس نے بھی شام میں اپنے فضائی حملوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔

پوٹن نے اپنے خطاب میں کہا، ’یہ ہمیشہ سے ایک مشکل عمل ہے کہ ایک دوہرا کھیل کھیلا جائے۔ ایک طرف دہشت گردوں کے خلاف جنگ کا اعلان کیا جائے اور دوسری جانب کچھ کو جگہ مہیا کی جائے، تاکہ مشرق وسطیٰ میں اپنے ذاتی مفادات کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔‘

انہوں نے شام میں روسی عسکری مداخلت کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ روسی کارروائیوں کا مقصد شام میں سیاسی طور پر مسئلے کو حل کرنے کے حالات پیدا کرنا ہے۔ تاہم انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ روس اعتدال پسند یا شدت پسند ’دہشت گردوں‘ میں فرق نہیں کرےگا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ روسی اور امریکی فوجوں کے درمیان رابطے بحال ہو چکے ہیں اور دہشت گرد گروہوں سے متعلق معلومات کے تبادلے کا سلسلہ جلد شروع ہو جائے گا۔

شام میں روس کا جوا:

تاہم مبصرین کے مطابق رواں ہفتے شامی صدر کے غیرمتوقع دورہ روس اس سلسلے میں ایک غیر معمولی عمل تھا۔ اس دورے میں بشارالاسد نے روسی صدر پوٹن سے ملاقات کی۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اس ملاقات سے ایک طرف تو شامی تنازعے کے مستقبل سے متعلق روس کی پوزیشن واضح ہوتی ہے اور دوسری جانب یوکرائن کے معاملے کی وجہ سے روس پر عائد مغربی پابندیوں کے تناظر میں تنہائی کا شکار روس اب عالمی سطح پر اپنا آپ منوانا چاہتا ہے۔

مبصرین کے خیال میں بشارالاسد کے دورے سے یہ پیغام تو ملتا ہے کہ پوٹن اپنے اتحادی کی مدد کے لیے تیار ہیں، تاہم ایسا بھی نہیں کہ ماسکو حکومت لامتناہی عرصے تک شامی صدر کا ساتھ دینا چاہتی ہے۔

عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی اور مغربی پابندیوں کی وجہ سے کساد بازاری کا شکار ملک روس شام میں اپنی عسکری کارروائیوں کے دوران قریب چار ملین ڈالر یومیہ کے حساب سے پیسہ پھینک رہا ہے اور اس مداخلت سے روس کے اندر بھی شدت پسندوں کے ممکنہ حملوں کے خطرات پیدا ہو گئے ہیں، جس سے واضح ہے کہ روسی حکمت عملی خطرات سے ہر گزخالی نہیں۔

سن 1979ء میں افغانستان میں براہ راست سوویت مداخلت کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ روسی فوجیں غیر ملکی سرزمین پر کسی عسکری کارروائی میں شریک ہوئی ہیں۔

رشیئن اکیڈمی آف سائنسز کے اوریئنٹل اسٹڈیز کے شعبے سے وابستہ سینیئر محقق ولادیمیر احمدوف کے مطابق، ’امریکا عراق اور شام میں پھنسا ہوا ہے، جب کہ یورپ مہاجرین کے مسئلے سے دوچار ہے۔ ایسے میں پوٹن علاقائی طاقتوں سے مذاکرات میں مصروف ہیں۔ حالیہ کچھ دنوں میں پوٹن نے شام کے مسئلے پر ترکی، ایران، سعودی عرب اور مصر کے رہنماؤں سے بات چیت کی ہے۔

شام میں روسی مداخلت کا سیاسی اثر:

جمعے کے روز شامی حکومتی وفد ویانا میں روسی، امریکی، سعودی اور ترک وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شرکت کر رہا ہے۔

مبصرین کے مطابق شام میں روسی عسکری مداخلت سے قبل مغربی دنیا، ترکی اور سعودی عرب کسی سیاسی امن عمل کے آغاز سے پہلے بشارالاسد کی اقتدار سے علیحدگی کا مطالبہ کرتے آئے ہیں، تاہم اب ان کے موقف میں بھی خاصی نرمی پیدا ہوئی ہے۔

بشارالاسد کے کھلے مخالفین امریکا، برطانیہ اور فرانس کے موقف میں ڈرامائی تبدیلی پیدا ہوئی ہے جب کہ ترکی بھی اب شام میں سیاسی تبدیلی کے عمل کے دوران بشارالاسد کے اقتدار چھوڑنے کے مطالبے تک آ گیا ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ پوٹن اس صورت حال میں نہ صرف ایک نجات دہندہ بن کر سامنے آنا چاہتے ہیں بلکہ ساتھ ہی وہ روس کو ایک بڑی طاقت کے طور پر بھی منوانا چاہتے ہیں۔

عسکری مداخلت کا پوٹن کو سیاسی فائدہ:

عوامی جائزہ کرنے والے روسی سرکاری ادارے VTsIOM کی جانب سے جمعرات کے روز پوٹن کی ملک میں مقبولیت کے حوالے سے ایک سروے جاری کیا گیا ہے۔ اس سروے کے مطابق روسی عوام میں صدر پوٹن کی مقبولیت میں ماضی کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اس ادارے کے مطابق سروے میں شامل قریب 90 فیصد روسی شہریوں نے صدر پوٹن کے حق میں رائے دی۔ آزاد ایجنسیوں کے مقابلے میں یہ ادارہ ماضی میں بھی پوٹن کی بہتر مقبولیت کے حوالے سے سروے شائع کرتا رہا ہے۔

جمعرات کے روس اس ادارے نے بتایا کہ ہفتے اور اتوار کے روز 16 سو روسی باشندوں سے رائے لی گئی، جن میں سے تقریباً 90 فیصد نے صدر پوٹن پر اعتماد کا اظہار کیا۔