1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مغربی ممالک افغانستان میں مزید فوجی تعینات کرنے سے گریزاں

جرمن چانسلر نے کہا ہے کہ افغانستان میں موجود جرمن فوجیوں کی تعداد میں اضافہ نہیں کیا جائے گا۔ جرمنی کا شمار یورپی یونین کے طاقتور ترین ممالک میں ہوتا ہے اور اس کے فیصلے باقی ممالک پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔

کابل حکومت نے مغربی دفاعی اتحاد نیٹو سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے مزید فوجی افغانستان میں تعینات کرے۔ نیٹو اس حوالے سے تمام رکن ملکوں سے صلاح مشورے جاری رکھے ہوئے ہے لیکن لگتا یوں ہے کہ مغربی ممالک دوبارہ افغانستان کے جنگی مشن میں شامل ہونے سے گریزاں ہیں۔

یورپی یونین میں جرمنی کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے اور اس کے فیصلے باقی ممالک کے فیصلوں پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ آج اس حوالے سے جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے ایک واضح بیان جاری کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جرمنی شمالی افغانستان میں نیٹو ملٹری ٹریننگ مشن میں تو شامل رہے گا لیکن وہاں موجود جرمن فوجیوں کی تعداد میں اضافہ نہیں کیا جائے گا۔

افغانستان میں مزید فوجی تعینات کرنے کے حوالے سے میرکل کا کہنا تھا کہ وہ اس حوالے سے نیٹو کی تجزیاتی رپورٹ اور درخواست کا انتظار کریں گی اور یہ کہ جرمنی جنگی مشن میں حصہ لینے کے لیے پہلا ملک نہیں بنے گا۔

نیٹو کے سربراہ کے مطابق افغانستان میں نیٹو فوجیوں کی موجودگی کے حوالے سے کوئی بھی فیصلہ آئندہ چند ہفتوں میں کر لیا جائے گا۔

نیٹو اتحاد کا سربراہی اجلاس 25 مئی کو برسلز میں ہونا ہے اور اس میں یہ فیصلہ بھی کیا جائے گا کہ اس اتحاد کو داعش کے خلاف بنائے گئے عسکری اتحاد کا حصہ بننا چاہیے یا نہیں۔

نیٹو کے کئی رکن ممالک انفرادی سطح پر تو داعش کے خلاف جاری کارروائیوں کا حصہ ہيں لیکن بطور نيٹو اتحاد ان کا حصہ نہیں۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی نیٹو ممالک، خاص طور پر جرمنی پر دباؤ بڑھا رکھا ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ معاہدے کے مطابق تمام ممالک اپنی مجموعی قومی پیداوار کا دو فیصد حصہ نیٹو کے لیے خرچ کریں۔

دوسری جانب نیٹو اتحاد افغانستان کے حوالے سے امریکی فیصلے کا بھی انتظار کر رہا ہے کہ آیا وہ اس ملک میں مزید فوجی تعینات کرے گا یا نہیں۔ برطانوی میڈیا کے مطابق نیٹو نے برطانیہ سے درخواست کی ہے کہ وہ اپنے مزید فوجی افغانستان میں تعینات کرے۔

نیٹو کے سیکرٹری جنرل ژینس اسٹولٹن برگ نے برطانوی وزیر اعظم ٹریزا مے سے ملاقات کے بعد کہا تھا کہ وہ افغان مشن میں ممکنہ وسعت اور گنجائش کے حوالے سے آئندہ چند ہفتوں میں فیصلہ کریں گے لیکن یہ فیصلہ افغانستان میں کسی مسلح مشن میں دوبارہ شرکت کا فیصلہ نہیں ہوگا۔