1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

مغربی فیشن اور اسلامی روایات کا امتزاج، اسلامک فیشن

سر پہ خوبصورت رنگ اسکارف لیے، کالی قبائیں پہنے، پُر وقار ماڈلز فلم ’جیمز بانڈ‘ کی دھنوں پر دبئی کے ایک فیشن شو کے ریمپ پر نظر آئیں۔ مغربی دھنوں پر روایتی عباؤں کی نمائش کے امتزاج کو اسلامک فیشن کا نام بھی دیا جا رہا ہے۔

default

دبئی سے تعلق رکھنے والی کمپنی Rouge Couture کی جانب سے اپنے نئے کلیکشن کی نمائش کے لیے یہ فیشن شو منعقد کیا گیا تھا۔ اس شو میں مغربی دھنوں کے ساتھ مسلم خواتین کے زیر استعمال آنے والے روایتی عباؤں کو پیش کرنے کےانوکھے تضاد کو اسلامک فیشن کا حصہ قرار دیا جا سکتا ہے۔

Rouge Couture کی بانی سارہ مدنی نے عباؤں کو جدید انداز میں پیش کرنے کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ، " ہمارے پیش کردہ ملبوسات نہ صرف روایتی بلکہ مذہبی بھی ہیں اور چاہے ہم فیشن کےحوالے سے کتنا ہی آگے چلے جائیں، ہمارے لباس اب بھی اعتدال پسند اور باحجاب ہیں"

Symbolbild Macho Frauen Arabische Welt

ان فیشن شوز کا مقصد دنیا کو عرب عورت کے جدید اور طاقتور روپ سے دنیا کو روشناس کروانا ہے

شرم وحیا یا مذہب و حجاب اسلامی فیشن کی صنعت کےپسِ پردہ وہ بنیادی اصول ہیں جو انڈونیشیا سے دبئی اور دبئی سے مونٹی کارلوس، مناکو کے فیشن ریمپ پر اپنی پہچان بنا رہے ہیں۔ اسلامی فیشن اب شریعت سے وابستہ صنعتوں کا ایک ضروری حصہ بنتا جا رہا ہے۔

فیشن کی دنیا کے چند بڑے نام مثلاﹰ Dior Christian بھی اب اسلام سے متاثر لباس بنانے کی دوڑ میں شامل ہو گئے ہیں تاکہ دنیا بھر کی مسلم خواتین کی قوت خرید کو آزمایا جا سکے۔ صرف یہ ہی نہیں مسلم ڈیزائنرز بھی 96 بلین ڈالر کی اس فیشن انڈسٹری میں اپنی جگہ بنانے کے خواہشمند ہیں ۔

تاہم اس صنعت کے مخالفین کا کہنا ہے کہ اسلامی فیشن میں اسلام کی اصل روح کی نہ صرف کمی ہے بلکہ اسلام کے نام کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے ایسے لباس بنائے جا رہے ہیں جس کی جمالیاتی حس کے پیچھے مغربی حسن کا تصور کارفرما ہوتا ہے۔

Palästinenser Westjordanland Fernsehen Seifenoper Matabb

کچھ لوگوں کی نظر میں سر پر اسکارف لینا تو اسلامی ہے تاہم مغربی لباس کے ساتھ اسکارف لینے کو اسلامی فیشن نہیں کہا جا سکتا

یہی وجہ ہے کہ گزشتہ سال اگست کے مہینے میں مونٹی کارلوس میں منعقد ایک فیشن شو کی ملایشیا میں شدید مخالفت کی گئی۔ اس شو کی سر پرست ملایشیا کے وزیر اعظم کی اہلیہ تھیں جن کے خلاف طلباء کےگروپس اور سیاستدانوں نے شدید احتجاج کیا تھا۔ اس فیشن شو میں نمائش کے لیے پیش کیے گئے چند ملبوسات پر پیغمبرِ اسلام کے نام کو عربی رسم الخط میں بغیر آستینوں کے گاؤن نما عباؤں پر درج کیا گیا تھا۔

تاہم اسلامک فیشن شو کے بانی راجا رضِا شاہ نے اس تنقید کے جواب میں کہا کہ تنقید کرنے والوں نے اس فیشن شو کے اصل مقصد کو سمجھا ہی نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تقریب ایک ایسا موقع تھا جس میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے دنیا بھر سے آئے ہوئے ڈیزائنرز نے اکھٹے ہو کر دنیا بھر کے مسلمان صارفین کو مد نظر رکھتے ہوئے ملبوسات تخلیق کیے۔ان کے مطابق ان کے اس فیشن شو نے غیر مسلموں کو اسلام کے ایک نرم گوشے سے روشناس کروایا۔

جہاں بہت سے مسلمان ڈیزائنرز اسلامی فیشن میں مغربی جھلک کے حامی ہیں وہاں بہت سے لوگ اس کے مخالف بھی ہیں۔ ان میں دبئی شاپنگ مال میں موجود ایک گھریلو خاتون صفاء بھی ہیں جن کا کہنا ہے کہ اگر آپ ایسی کوئی چیز پہن رہے ہیں جس کو اسلامی کہا جا رہا ہے تو اس میں اسلام کا کلچر بھی جھلکنا چاہئے۔ عباء ایک روایتی لباس ہے لیکن جینز اور ٹی شرٹس خالصتاﹰ مغربی لباس ہیں جن کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں لہٰذا اس پر اسلامی تصاویر یا کلمات چھاپ کر اسلامی نہیں قرار دیا جا سکتا۔

رپورٹ: عنبرین فاطمہ

ادارت: شامل شمس

DW.COM