1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مغربی عسکریت پسند پاکستان میں زیر تربیت

اسلام آباد میں مغربی سفارتکاروں، خفیہ ایجنسیوں اور سلامتی کے ادارے کے اہلکاروں نےکہا ہےکہ افغانستان سے ملحقہ پاکستانی سرحدی علاقوں میں موجود ہزاروں غیر ملکی شدت پسندوں میں مغربی عسکریت پسندوں کا ایک گروپ بھی شامل ہے۔

default

اس گروپ سے منسلک افراد شمالی پاکستان کے علاقوں میں قائم طالبان اور القاعدہ کےکیمپوں میں مبینہ طور پر دہشت گردی کی تربیت حاصل کرنے کے علاوہ یورپی ممالک میں کارروائیوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔

مذکورہ عناصر کی طرف سے ظاہر کئے جانے والے خدشات کے علاوہ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اگرچہ ایسے یورپی عسکریت پسندوں کی تعداد نسبتاً کم ہے تاہم گزشتہ برسوں کے دوران یورپ کے مختلف شہروں میں ہونے والے بم حملوں میں مبینہ طور پر ملوث افراد کے پاکستان کے قبائلی علاقوں کے ساتھ رابطے اس امر کا ثبوت ہےکہ ترک وطن کرنے والے عسکریت پسندوں سے لاحق خطرات حقیقی معنوں میں سنگین ہیں۔

Terror Terrorismus Bedrohung Anschläge Europa Paris Frankreich NO FLASH NEU

حال ہی میں پیرس کے آئفل ٹاور پر یھی مبینہ طور پر حملے کی منصوبہ بندی کی خبر سے خوف و حراس پھیل گیا تھا

2004 میں میڈرڈ اور 2005 میں لندن میں ہونے والے بم حملوں کے علاوہ بارسلونا کا ناکام بم حملہ اور پھر 2008 میں ممبئی کے دہشت گردانہ حملے ہی اس ضمن میں بہت سے شکوک و شبہات کو تقویت دیتے ہیں۔ پھر سال رواں، مئی میں نیو یارک کے ٹائمز اسکوائر میں کار بم دھماکہ کے منصوبہ ساز، ان سب کا تعلق پاکستان کے عسکریت پسندوں کا گڑھ مانے جانے والے علاقوں ہی سے نکلا ہے۔ پاکستانی اہلکاروں کا کہنا ہےکہ مبینہ حملہ آوروں کا سراغ لگانا مشکل ہوتا ہے کیونکہ یہ سب یورپ بلکہ امریکہ سے بھی باقاعدہ قانونی طور پر ویزہ لےکر پاکستان آتے ہیں اور پاکستانی معاشرے اور عوام میں گھل مل جاتے ہیں اورکسی طرح وزیرستان تک اپنا راستہ نکال لیتے ہیں۔

پاکستان کے ایک سکیورٹی اہلکار نے نام نہ ظاہرکرنے کی شرط پر ایک بیان میں کہا ’برطانیہ میں پیدا ہونے والے پاکستانی نوجوان عموماً فطرتاً ہیجان خیز ہوتے ہیں۔ انہیں پاکستان آنے میں کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑتا اور یہاں آکر وہ ہر طرف آزادانہ گھومتے پھرتے رہتے ہیں‘۔

ایک اور سکیورٹی اہلکار کا کہنا تھا کہ پاکستان کے امیگریشن قوانین میں کچھ جھول پایا جاتا ہے، جس کے سبب مبینہ افراد خاص طور سے یورپ سے آنے والوں کے لئے یہ مراحل عبور کرنا کوئی مشکل کام نہیں‘۔

Archiv 7 Jahrestag der Anschläge vom 11. September

گیارہ ستمبر 2001 کو نیویارک کے دہشت گردانہ حملوں کے بعد سے دیگر مغربی ممالک میں بھی یہ سلسلہ پھیلتا گیا

پاکستانی خفیہ ادارے کے ایک اہلکار نے کہا ہے کہ زیادہ تر غیر ملکی عسکریت پسند شمالی مغربی صوبے خیبر پختونخواہ کا رخ کرتے ہیں۔ یہ مقامی بولی یعنی پشتو سیکھ کر آتے ہیں اور مقامی لوگوں جیسا لباس پہنتے ہیں۔ اس وجہ سے ان کی شناخت نہیں ہو پاتی۔

حال ہی میں لگسمبرگ منعقدہ ایک اجلاس میں ایک امریکی مندوب نے یورپی یونین کے وزیر داخلہ کو بتایا کہ برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے شہروں میں دہشت گردانہ حملوں کی منصوبہ بندی کرنے والوں کا تعلق یورپی جہادیوں کے ایک گروپ سے ہے، جو مغربی قبائلی علاقوں میں پائے جاتے ہیں‘۔

پاکستانی خفیہ سروس کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ بہت سے مغربی جنگجو تبلیغی جماعت سے تعلق رکھنے والوں کا روپ دھار کر پاکستان آتے ہیں۔ تبلیغی جماعت کا سالانہ اجلاس ہر سال نومبر میں لاہور سے مشرق کی طرف واقع رائےونڈ میں منعقد ہوتا ہے، جہاں لاکھوں کی تعداد میں لوگ شرکت کرتے ہیں۔ ایک سینئیر اہلکار کے مطابق رائےونڈ آنے والے غیر ملکی مبینہ عسکریت پسندوں کوگرفتار بھی کیا گیا ہے تاہم اس کے باوجود ان میں سےکچھ وزیرستان پہنچنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

Mingora Pakistan

پاکستان کے بہت سے قبائیلی علاقوں میں دہشت گردی کے خلاف فوجی آپریشن کے بعد کئی علاقے خالی ہو گئے ہیں

قبائلی علاقے کے سابقہ سکیورٹی چیف ریٹائرڈ جنرل محمود شاہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ مقامی لوگ اور تاجر پیشہ حضرات یورپ سے پاکستان آنے والے جنگجوؤں سے ملتے ہیں اور پھر انہیں قبائلی علاقوں میں بھیج دیتے ہیں۔ انہوں نےکہا کہ القاعدہ ان یورپی باشندوں کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے کیونکہ وزیرستان پہنچنے والے یہ جنگجو پوری طرح مائل ہو چکے ہوتے ہیں۔

رپورٹ: کشور مصطفیٰ

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM

ویب لنکس