1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

مغربی دینا اور مشرق وسطیٰ میں سیاسی و سماجی بیداری

امریکہ سے اٹھنے والی وال اسٹریٹ پر قبضہ کرو اور مشرق وسطیٰ میں جاری سیاسی بے چینی مستقبل میں عالمی بد امنی کا سبب ہو سکتی ہیں۔ اس عالمی بے چینی سے مغربی ملکوں میں بھی بے سکونی کو فروغ ملنے کا خیال ظاہر کیا جا رہا ہے۔

default

امریکہ سے اٹھنے والی ’’وال اسٹریٹ پر قبضہ کرو‘‘  اور مشرق وسطیٰ میں جاری سیاسی بے چینی مستقبل میں عالمی بد امنی کا سبب ہو سکتی ہیں۔ اس عالمی بے چینی سے مغربی ملکوں میں بھی بے سکونی کو فروغ ملنے کا خیال ظاہر کیا جا رہا ہے۔

 عالمی مالیاتی کساد بازاری کے بعد دنیا بھر میں افزائش پانے والی غربت اور بھوک  کے نتیجے میں امریکہ میں جنم لینے والی سماجی بیداری کی تحریک وال اسٹریٹ پر قبضہ کرو کے ساتھ ساتھ مشرق وسطیٰ میں سیاسی تحریکوں نے واشنگٹن اور ترقی یافتہ اقوام کے بڑے تھنک ٹینکوں میں پریشانی کی لہر پیدا کر دی ہے۔ ان تھنک ٹینکوں کے محققین کا خیال ہے کہ عالمی سطح پر سیاسی و سماجی جمود میں پیدا ہونے والی یہ پہلی دراڑ ہے۔

Occupy-Bewegung in Berlin Flash-Galerie

وال اسٹریٹ پر قبضہ کرو کا اثر ساری دنیا میں محسوس کیا گیا

محققین کا خیال ہے کہ ایک خاص انداز میں عوام میں پکنے والے غیض و غضب کے لاوے نے بہنے کی راہ احتجاجات اور مظاہروں کی شکل میں ڈھونڈ لی ہے اور اگلے کئی سالوں کے دوران سیاسی فضا گھمبیر رہنے کے قوی امکانات موجود ہیں۔ اس تناظر میں یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ ذرائع ابلاغ تک آسان رسائی رکھنے والی جوان ہوتی نسل اپنے روایتی حکومت سازی اور کاروباری  ڈھانچے سے بیزار دکھائی دیتی ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ انہیں دانستہ طور پر بہتر مواقع حاصل کرنے سے دور کیا گیا ہے۔ سماجیات اور بشریات کے بین الاقوامی ماہرین نے اگلے سالوں کو ایک انتہائی مشکل سماجی دور قرار دیا ہے اور اس دوران وہ بنیادی انسانی رویوں میں معاشرتی تبدیلی کی چاپ سن رہے ہیں۔

ترقی پذیر ملکوں میں متوسط طبقے کے اندر یہ احساس جنم لے رہا ہے کہ ان کے لیے اب خوشحال ہونے کا موقع تحلیل ہو چکا ہے۔ یہ غریب ہوتا متوسط طبقہ اب مطالبہ کرتا ہے کہ ان کے اندر سرایت کرتی غربت کا ذمہ دار کسی کو ٹھہراتے ہوئے عالمی اشرافیہ کے ٹھیکیدار ان کے لیے ترقی کا نیا راستہ وضع کریں۔

امریکی داراحکومت میں واقع معتبر جارج میسن یونیورسٹی میں مطالعہٴ جمہور یا ڈیموگرافی کے ماہر پرفیسر جیک گولڈ اسٹون کا کہنا ہے کہ ایک ایسی نسل سامنے آ چکی ہے جو امیر ملکوں یا امراء سے بیزار دکھائی دیتی ہے اور یہ رویہ برسوں اس نسل میں پنپ سکتا ہے۔ پروفیسر گولڈ اسٹون نے مصر کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ایک نسل نے مضبوط حکومت کا خاتمہ تو کر دیا ہے لیکن وہ اس کی جگہ قائم ہونے والی حکومت کو بھی رد کرنے کا حوصلہ رکھتی ہے۔

Weltweite Proteste gegen Finanzindustrie und Krise Berlin Deutschland Flash-Galerie

جرمن شہر فرینکفوٹ میں بھی مظاہرے کا انتظام کیا گیا

مغربی اقوام میں وسط ستمبر سے اقتصادی و مالیاتی نظام کے خلاف امریکیوں کی وال اسٹریٹ پر قبضہ کرو کی تحریک کے گہرے اثرات ہفتہ کے روز ہونے والے مظاہروں میں شریک عوام کے نعروں اور احساسات کے ذریعے حکومتوں اور دانشوروں نے محسوس کیے ہیں۔ یونان، جرمنی، اسپین، اٹلی اور برطانیہ میں ہزاروں افراد کے اجتماع سے پیدا ہونے والی بے چینی کئی دہائیوں کے بعد دیکھی گئی۔ روم کے علاوہ بقیہ مقامات پر اجتماعات پر امن رہے۔ سرگرم کارکن اور مظاہرین مالیاتی نظام کو سیاہ بلاک سے تعبیر کر رہے ہیں۔

امریکی نیول وار کالج کے شعبہ مشرق وسطیٰ اور قومی سلامتی کے پروفیسر حیات علوی کا خیال ہے کہ احتساب کا موسم آن پہنچا ہے اور لوگ قانون کی حکمرانی کے متمنی ہیں۔ علوی کے نزدیک بیداری کے عمل میں شریک عوام خاص طور پر حکمران سیاسی اشرافیہ اور امراء کو ٹارگٹ بنائے ہوئے ہیں۔ ادھر پروفیسر گولڈ اسٹون کو یقین ہے کہ موجودہ سماجی و معاشرتی بے چینی ممالک کے نظاموں کو فالج زدہ تو نہیں کرے گی لیکن پالیسیوں میں ڈرامائی تبدیلیاں عین ممکن ہیں۔

رپورٹ:  عابد حسین

ادارت:  امجد علی

DW.COM

ویب لنکس