1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کی نئی سٹریٹیجک پالیسی

مغربی دفاعی اتحاد نیٹو 1999ء کے بعد پہلی مرتبہ ایک نیا سٹریٹیجک تصور مرتب کر رہا ہے۔ نیٹوکا موجودہ سٹریٹیجک تصور 11برس سے رائج ہے، جو اس نوعیت کی دستاویزکے لئے کوئی زیادہ عرصہ نہیں۔

default

نئی دستاویز کی تیاری کے لئے ماہرین کا ایک گروپ تشکیل دیا گیا ہے، جس میں نہ صرف سیکیورٹی کے بدلتے ہوئے منظرنامے کا جائزہ پیش کیا جائے گا بلکہ جدید خطرات کا احاطہ بھی کیا جائے گا۔

گزشتہ کچھ عرصے میں دنیا کی جغرافیائی سیاست میں جو تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں، انہوں نے دورِ حاضر کی شکل ہی بدل کر رکھ دی ہے۔ اس تصور کے وقت ہی جرمنی میں دیوار برلن کے انہدام کے ساتھ سرد جنگ کا دور بھی ختم ہو گیا تھا۔ پھر بھی یہ واضح نہیں تھا کہ آئندہ وقتوں میں عالمی رجحانات اور حالات کیا رخ اختیار کریں گے۔

گیارہ ستمبر 2001ء میں امریکہ پر دہشت گردانہ حملوں نے ہر چیز بدل کر رکھ دی ہے۔ اس سے ایک ایسے دور کا جنم ہوا ہے، جس میں مذہبی دہشت گردی، شدت پسندی کے خلاف لڑائیاں اور ریاستوں کی ناکامی عالمی سلامتی کی بحث کے موضوع بن چکے ہیں۔

Nato Treffen der Außenminister in Tallinn Estland

امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کہہ چکی ہیں کہ نیٹوکو بدلتے زمانے کے ساتھ دفاعی امور سے متعلق شعبوں پر زیادہ توجہ دینا ہوگی

یہ پہلو بھی اہم ہے کہ نیٹو نے اس نئی جغرافیائی سیاست میں اپنی حیثیت کے معنی پر بارہا بات کی ہے۔ تاہم اس نے نئے چیلنجز کے مطابق نئی حکمت عملی وضع نہیں کی تھی۔ اسی مقصد کے لئے اب نیا سٹریٹیجک تصور مرتب کیا جا رہا ہے، جس کی ذمہ داری سابق امریکی وزیر خارجہ میڈلین البرائٹ اور بین الاقوامی ماہرین کے ایک گروپ کو سونپی گئی ہے۔

اس گروپ میں لیٹویا کے وزیر خارجہ Aivis Ronis بھی شامل ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ تصور کو ترتیب دئے جانے سے اب تک صرف دنیا ہی نہیں بدلی بلکہ نیٹو کے اندر بھی بہت سی تبدیلیاں آ چکی ہیں۔ واضح رہے کہ Ronis رواں ماہ کے آغاز پر اس گروپ میں شمولیت کی غرض سے لیٹویا کے وزیر خارجہ کے عہدے سے مستعفی ہو چکے ہیں۔

Buchcover: Madeleine K. Albright - Der Mächtige und der Allmächtige

سابق امریکی وزیر خارجہ میڈلین البرائٹ

ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ 11سالوں میں نیٹو میں متعدد نئی ریاستیں شامل ہو چکی  ہیں، جو قبل ازیں طے کی گئی حکمت عملی کو ترتیب دینے میں شامل نہیں رہیں۔ تاہم اب انہیں یہ موقع میسر آئے گا۔

یہ بات بھی اہم ہے کہ امریکہ نیٹو ممالک کی حدود کے باہر دہشت گردی کے خلاف اس کے سرگرم کردار کا خواہاں ہے۔ تاہم بیشتر یورپی ممالک اپنے دفاعی اتحاد کے اس نوعیت کے کردار کے حق میں نہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نیٹو کو اپنی پالیسی طے کرتے ہوئے ان پہلوؤں پر خصوصی توجہ دینا ہوگی اور ایک ایسا تصور پیش کرنا ہوگا، جو ہرکسی کے لئے قابل قبول ہو۔ اس حوالے سے ہارورڈ یونیورسٹی میں ٹرانس اٹلانٹک امور کے ماہر کارل کائزر کہتے ہیں کہ قابل قبول پالیسی ہی نیٹو کے لئے ایک نیا اور اچھا آغاز ثابت ہو گی۔

رپورٹ: عدنان اسحاق

ادارت : شادی خان سیف

DW.COM