1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مغربی بیروت پر حذب اللہ کا کنٹرول

لبنان میں جمعرات کے روز شروع ہونے والی حکومت اور حذب اللہ کی لڑائی میں کم از کم گیارہ افراد ہلاک اور تیس زخمی ہو چکے ہیں جب کہ اطلاعات کے مطابق مغربی بیروت مکمل طور پر حذب اللہ کے قبضے میں آ گیا ہے۔

default

بیروت حذب اللہ کی ملیشیا کے قبضے میں

ایران کی حمایت یافتہ مزاحمتی تنظیم حذب اللہ کا مغربی بیروت پر قبضہ امریکہ نواز سعد حریری کی حکومت کے لیے ایک دھچکے سے کم نہیں ہے۔ یہ حذب اللہ کے مضبوط سے مضبوط تر ہونے کی ایک علامت ہی نہیں ایک بھر پور ثبوت بھی ہے۔ اس صورتِ حال کے پیشِ نظر یہ سوال لبنانی سیاست میں پھر گونج اٹھا ہے کہ ملک پر حقیقی کنٹرول آیا کہ حکومت کا ہے یا حذب اللہ کے گوریلا فائٹرز کا۔


لبنان کی مخلوطً حکومت کے سربراہ سعد حریری لبنانی سیاست کے دیرینہ تنازعے کا حل یہ پیش کرتے ہیں کہ دو اختیارات واضح طور پر لبنانی فوج کے پاس ہونے چاہیں۔ ایک امن و امان کا خیال رکھنا اور دوسرا اس بات کو یقینی بنانا کہ ریاست کی حاکمیت پورے ملک پر ہو اور لبنان کو غیر ملکی خطرات سے بچایا جا سکے۔یعنیٰ یہ بات تو سعد حریری بھی تسلیم کر رہے ہیں کہ ریاست کا کنٹرول حکومت یا لبنانی فوج کے پاس نہیں ہے۔


سیکیورٹی فورسز اور حذب اللہ کے مسلح دستوں کے درمیان تازہ لڑائی نے انیس سو پچھتر سے انیس سو نوّے کے درمیان لبنان میں ہونے والی خانہ جنگی کی یاد لوگوں کے دلوں میں تازہ کر دی ہیں۔ جرمنی سمیت یورپی یونین ، فرانس اور کئی خلیجی ممالک بشمول اردن اور سعودی عرب نے فریقین سے اپیل کی ہے کہ وہ لڑائی بند کریں اور تنازعے کا پر امن حل تلاش کریں۔

Libanon Unruhen in Beirut Hisbollah

لوگوں کے زہنوں میں انیس سو پچھتر سے انیس سو نوّے کے درمیان ہونے والی خانہ جنگی کی یاد تازہ ہو گی


مگر حذب اللہ کے رہنما حسن نصر اللہ کا کہنا ہے کہ لبنانی حکومت امریکہ اور اسرائیل کے دبائو پر ان کے خلاف کریک ڈائون کر رہی ہے ۔ حسن نصر اللہ کا کہنا ہے کہ وہ کسی کو اس بات کی اجازت نہیں دیں گے کہ وہ ان کے ساتھیوں کو سڑکوں پر ہلاک کرے یا انہیں فائرنگ کا نشانہ بنائے۔ ان کے مطابق وہ اپنے ہتھیاروں کے زخائر کے خلاف کوئی سازش برداشت نہیں کریں گے۔ ساتھ ہی حذب اللہ کے قائد کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر سعد حریری حذب اللہ سے کوئی مفاہمت چاہتے ہیںتو ان کے دروازے کھلے ہیں۔


مصری حکومت کے ترجمان نے تنازعہ ِ لبنان پر ایمرجنسی میٹنگ دو روز بعد قاہرہ میں طلب کر لی ہے۔ اندازہ یہی ہے کہامیٹنگ بلانے کا فیصلہ خطےّ میں لبنانی حکومت کے سب سے بڑے حامی سعودی عرب کی ایما پر کیا گیا ہے۔دریں اثناء اسرایل نے لبنان تنازعے کا زمہ دار ایک بار پھر ایران کو اور ایران نے اسرائیل اور امریکہ کو ٹھیرایا ہے۔