1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

مغربی باشندوں میں موٹاپے کی بیماری میں اضافہ

پیرس میں ہونے والی ایک نئی تحقیق کے مطابق موٹاپا صنعتی ترقی یافتہ مملک میں صحت کے لئےایک بڑھتا ہوا خطرہ بنتا جارہا ہے اور ایسے ممالک کی حکومتوں کو اس مسئلے کے حل کے لئے جامع اقدامات کرنے چاہیں۔

default

موٹاپا صنعتی ترقی یافتہ مملک میں صحت کے لئےایک بڑھتا ہوا خطرہ بنتا جارہا ہے

یہ تحقیق جمعرات کو ادارہ برائے اقتصادی تعاون و ترقی

(OECD) نے پیش کی ، 1980 میں ترقی یافتہ ممالک میں ہر دس میں سے ایک فرد اس بیماری کا شکار تھا۔ مگر گزشتہ سالوں میں یہ تعداد دوگنی اور کئی ممالک میں تو تین گنا تک بڑھ گئی ہے۔

تحقیق کے مطابق اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو اگلے 10سال میں ہر تین افراد میں سے دو موٹاپے کا شکار ہوں گے ۔OECD کی ویب سائٹ کے مطابق جب کسی بھی انسان کا ماس انڈیکسBMI ) 30 )ہوجائے تو وہ موٹاپے کے زمرے میں آتا ہے۔

US-Flagge in Ottawa Bush besucht Kanada

موٹاپے کی شرح سب سے زیادہ دنیا کے سب سے خوشحال ملک امریکہ میں ہے

ماس انڈیکس کو کسی بھی فرد کے وزن اور قد کے ذریعے سے ناپا جاتا ہے۔بڑھتے ہوئے موٹاپے میں روزمرہ زندگی میں جسمانی ورزش کی کمی ، کام کے لمبے اوقات اور بڑھتے ہوئے ذہنی دباؤ کا بہت عمل دخل ہے ۔

زیادہ تر خواتین میں موٹاپا پایا جاتا ہے مگر اب مردوں میں بھی اس کی شرح میں خواتین کی نسبت زیادہ اضافہ ہو رہا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ موٹاپا غریب اور غیر تعلیم یافتہ افراد میں زیادہ عام ہوتا ہے مگر حیرت انگیز طور پر اس وقت شہریوں کے موٹاپے کی شرح سب سے زیادہ دنیا کے سب سے خوشحال ملک امریکہ میں ہے،جہاں سال 2008 میں ہر چار میں سے تین خواتین اور تین میں سے دو مرد اس کا شکار تھے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ جہاں اور مما لک میں صحت پر ایک سے تین فیصد خرچہ آتا ہے وہاں امریکہ میں یہ شرح پانچ سے دس فیصد تک ہے۔

OECD نے اس بارے میں بھی خبر دار کیا کہ جیسے جیسے یہ بیماری بڑھے گی خرچوں میں اتنا ہی ضافہ ہوگا اور حکومتوں کو اس ضمن میں اقدامات کرنے چایئں اور لوگوں کے لائف اسٹائل میں تبدیلی لانے کے لئے ان کو اس بارے میں آگہی اور ڈاکٹروں کے مشوروں تک رسائی بھی فراہم کرنا ہوگی۔

اس طرح کی جامع حکمت ِعملی ہر سال جاپان میں 155000، اٹلی میں 75000، برطانیہ میں 70000 اور کینڈا میں 40000 اموات میں کمی واقع کرنے کا باعث بن سکتی ہیں۔

رپورٹ : سمن جعفری

ادارت : کشور مصطفیٰ

DW.COM

ویب لنکس