1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مغربی اقوام ’دہشت گردوں‘ کا ساتھ دے رہی ہیں، ترک صدر

ترک صدر نے مغربی اقوام پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ترکی میں ناکام فوجی بغاوت کرنے والوں کی حمایت کر رہی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کی یورپی یونین مہاجرین سے متعلق طے پانے والی ڈیل کی شرائط پوری کرنے میں بھی ناکام ہو رہی ہے۔

خبر رساں ادارے ڈی پی اے نے بتایا ہے کہ دو اگست بروز منگل انقرہ میں غیر ملکی سرمایا کاروں کے ساتھ ایک ملاقات میں ترک صدر ایردوآن نے کہا کہ جنہیں وہ اپنا دوست سمجھتے تھے، وہ ’دہشت گرد عناصر‘ کا ساتھ دے رہے ہیں۔

DW.COM

ایردوآن نے اصرار کیا کہ فوجی بغاوت کی کوشش بیرون ممالک سے کی گئی تھی۔ انہوں نے مغربی ممالک بشمول فرانس، جرمنی، آسٹریا اور بیلجیم پر الزام عائد کیا کہ وہ پندرہ جولائی کی ناکام بغاوت کے بعد ترکی کے ساتھ حمایت کا اظہار کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

ایردوآن کا کہنا تھا، ’’بدقسمتی سے مغرب دہشت گردوں کی حمایت کر رہا ہے اور ناکام فوجی بغاوت کرنے والوں کا ساتھ دے رہا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ پندرہ جولائی کی ہوئی ناکام بغاوت کے بعد کوئی اعلیٰ یورپی رہنما ترکی نہیں آیا ہے۔

ترک صدر نے اپنے ایک نشریاتی خطاب میں آج ہی کے دن یورپی یونین کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ مہاجرین کی ڈیل کے بعد یورپی بلاک وعدے کے مطابق مطلوبہ فنڈز کی فراہمی میں تاخیر کر رہا ہے جبکہ ساتھ ہی شینگن زون میں ترک باشندوں کی ویزا فری انٹری کے معاملے پر بھی پیشرفت نہیں ہو رہی ہے۔

رواں برس مارچ میں ترکی اور یورپی یونین نے مہاجرین کی یورپ آمد کے سلسلے کو روکنے کی خاطر ایک ڈیل طے کی تھی، جس کے بعد بحیرہ ایجیئن سے یونان پہنچنے والے مہاجرین کی تعداد میں نمایاں کمی نوٹ کی گئی ہے۔ اسی ڈیل کے تحت یورپی یونین نے ترکی کو تین بلین یورو فراہم کرنے کے علاوہ ترک شہریوں کی یورپی یونین کے ویزا فری داخلے کو ممکن بنانے کی بات بھی کی تھی۔

تاہم ترکی میں ناکام فوجی بغاوت کے بعد ایردوآن کی طرف سے ’باغی عناصر‘ کے خلاف شروع ہونے حکومتی کریک ڈاؤن پر برسلز اور انقرہ کے مابین کچھ اختلافات ابھر آئے ہیں۔ یورپی رہنماؤں نے ترکی پر بارہا زور دیا ہے کہ ’باغی عناصر‘ کے خلاف کارروائی میں قانون کا پاس رکھا جائے۔ اس تناظر میں یورپی یونین نے ترکی کے حکومتی کریک ڈاؤن پر بھی تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

Fethullah Gulen

فتح اللہ گولن کا کہنا ہے کہ وہ کسی سازش میں ملوث نہیں ہیں

ترک حکومت پندرہ جولائی سے اب تک کم ازکم اٹھارہ ہزارمشتبہ افراد کو گرفتار کر چکی ہے، جن میں اعلیٰ فوجی اہلکاروں کے علاوہ، جج، صحافی اوراساتذہ بھی شامل ہیں۔ منگل کے دن ہی ترکی میں فٹ بال فیڈریشن کے چورانوے اہلکاروں کو بھی برطرف کر دیا ہے۔

انقرہ کا کہنا ہے کہ اس ناکام فوجی بغاوت کے پیچھے فتح اللہ گولن کا ہاتھ تھا۔ یہ مذہبی رہنما امریکا میں جلا وطنی کی زندگی بسر کر رہے ہیں، جو کسی سازش میں ملوث ہونے سے انکار کرتے ہیں۔