معیشت کی بہتری کے لیے پیسوں کی بارش، ایک انوکھا خیال | معاشرہ | DW | 25.03.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

معیشت کی بہتری کے لیے پیسوں کی بارش، ایک انوکھا خیال

تصور کیجیے کہ ہیلی کاپٹر شہر کی گلیوں میں نوٹ گِرا رہے ہیں۔ یہ خیال عجیب سہی مگر بعض ماہرین کے مطابق دنیا کی بڑی اقتصادی قوتوں کی سست ہوتی ہوئی معیشت کو سہارا دینے کے لیے ایسے خیالات ماہرین کی توجہ حاصل کر رہے ہیں۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ’ہیلی کاپٹر مَنی‘ کا خیال سیدھا سا ہے، یعنی مرکزی بینک نئے نوٹ چھاپے اور انہیں براہ راست لوگوں تک منتقل کر دے جیسے مثلاﹰ ہوا سے سامان گرایا جاتا ہے۔ لوگ اس رقم سے خریداری کریں گے یا پھر سرمایہ کاری اور اس کا نتیجہ معاشی حرکت کی صورت میں نکلے گا اور افراط زر بڑھے گا۔

اس خیال پر عملدرآمد ہماری اس دنیا کے لیے کافی پُرکشش ہے جہاں مختلف ممالک کے مرکزی بینک اپنے موجودہ طریقوں کے ذریعے سست افراط زر سے چھٹکارا اور معیشت میں بہتری لانے میں ناکام ہوتے نظر آ رہے ہیں۔ ان موجودہ طریقہ ہائے کار میں شرح سود میں کمی، جو عام طور پر زیرو سے بھی کم ہوتی ہے اور بانڈ وغیرہ خریدنے کے لیے غیر معمولی سرمایہ کاری وغیرہ شامل ہیں۔

ہماری یہ دنیا جسے منفی افراط زر اور تنخواہوں اور قیمتوں میں طویل عرصے سے جمود کی وجہ سے معاشی عدم نمو کا مسئلہ درکار ہے، ایسے ہیلی کاپٹروں کی آواز جن میں رقوم سے بھرے بیگ موجود ہوں، بہت سے معاشی ماہرین سنتے محسوس کرتے ہیں اور اس پر غور کر رہے ہیں۔

اس خیال کے مطابق معیشت کو تحریک دینے کے لیے بینکوں اور اداروں کو معاشی رعائتیں یا رقوم دینے کی بجائے یہ رقوم براہ راست لوگوں تک منتقل کی جائیں۔ لوگوں کے پاس جب زیادہ پیسے آئیں گے تو وہ زیادہ خرچ کریں گے جس سے معاشی سرگرمی بڑھے گی اور چیزوں کی طلب بڑھنے کی وجہ سے ان کی قیمتوں میں اضافہ ہو گا اور اس طرح معیشت پر طاری جمود ٹوٹ سکے گا۔

اس خیال کے مطابق معیشت کو تحریک دینے کے لیے بینکوں اور اداروں کو معاشی رعائتیں یا رقوم دینے کی بجائے یہ رقوم براہ راست لوگوں تک منتقل کی جائیں

اس خیال کے مطابق معیشت کو تحریک دینے کے لیے بینکوں اور اداروں کو معاشی رعائتیں یا رقوم دینے کی بجائے یہ رقوم براہ راست لوگوں تک منتقل کی جائیں

یورپی مرکزی بینک کے سربراہ ماریو دراگی سے رواں ماہ معیشت کو تحریک دینے والے تازہ اقدامات کے بعد جب ’ہیلی کاپٹر منی‘ کے ممکنہ استعمال کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا، ’’حقیقت میں ہم نے اب تک اس پر غور نہیں کیا اور نہ ہی اس پر بات کی ہے۔ لیکن یہ بڑا دلچسپ خیال ہے اور مختلف صورتحال میں اس پر تحقیقی ماہرین معاشیات بھی غور کر رہے ہیں۔‘‘

ہیلی کاپٹر منی کا خیال پہلی مرتبہ نوبل انعام یافتہ معیشت دان ملٹن فریڈمان نے پانچ دہائیاں قبل پیش کیا تھا۔ 1969ء میں اپنے ایک پیپر میں انہوں نے لکھا تھا، ’’ہم اب فرض کرتے ہیں کہ ایک دن ایک ہیلی کاپٹر فضا میں اڑتا ہوا آتا ہے اور ایک آبادی پر ایک ہزار ڈالر کے نوٹ گِرا کر چلا جاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ لوگ جلدی سے اسے اٹھائیں گے اور پھر اسے خرچ کریں گےجس سے معاشی سرگرمی میں اضافہ ہو گا اور افراط زر میں اضافہ ہو گا۔‘‘

لندن میں قائم ’کیپٹل اکنامکس‘ کے سینیئر گلوبل اکانومسٹ اینڈریو کننگھم کے مطابق، ’’میں نہیں سمجھتا کہ بہت جلد ایسا کچھ ہونے والا ہے۔ لیکن اگر ہم اسی طرح بہت زیادہ کم افراط زر والی فضا میں پھنسے رہے تو پھر وہ چیزیں بھی عمل میں آ سکتی ہیں جنہیں ہم فی الحال ناممکن سمجھ رہے ہیں۔‘‘