1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

معیشت کو بحال کرنا نئی حکومت کے لئے سب سے بڑا چیلنج

ڈاکٹر من موہن سنگھ جلد ہی دوبارہ حکومت کی باگ ڈور سنبھالنے والے ہیں لیکن عالمی کساد بازاری سے متاثر ملک کی معیشت کو سنبھالنا ان کے لئے سب سے بڑا چیلنج ہوگا۔

default

بھارتی وزیراعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ اور کانگریس لیڈر سونیا گاندھی

بھارت میں حالیہ عام انتخابات میں سب سے بڑی جماعت کے طور پر ابھرنے والی کانگریس پارٹی نے ڈاکٹرمن موہن سنگھ کو منگل کے روز باضابطہ طورپراپنا رہنما منتخب کر لیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی من موہن سنگھ کے دوبارہ وزیراعظم بننے کی راہ بھی ہموار ہو گئی۔ پارٹی لیڈرمنتخب ہونے کے بعد اپنی پہلی تقریرمیں ڈاکٹرسنگھ نے کہا کہ عوام نے متحدہ ترقی پسند اتحاد یعنی یو پی اے پراعتماد کرکے ملک کی باگ ڈور دوبارہ اسے سونپی ہے اس لئے نئی حکومت کو عوام کے توقعات پر پورا اترنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت زراعت‘ صنعت اور معیشت میں اصلاحات کا عمل جاری رکھے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ معیشت کی ترقی اوراس کو وسعت دینا ان کا پہلا کام ہو گا۔ متحدہ ترقی پسند اتحاد اس حوالے سے 100 دنوں کے ایک پیکج پرغور کر رہی ہے۔

ڈاکٹر سنگھ نے تسلیم کیا کہ گذشتہ دنوں کے دوران سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقعوں میں کمی آئی ہے اورترقی کو نہ صرف دوباہ پٹری پرلانا ہوگا بلکہ اسے بہتر بھی بنانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس کے لئے نہ صرف ترقی کی شرح کو برقرار رکھنا بلکہ اس میں اضافہ کرنا بھی ضروری ہے۔ ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ اس کے لئے ایسا سماجی اور سیاسی ماحول بنانا ہوگا جس میں نئی سرمایہ کاری ہوسکے۔

بھارتی ماہرین اقتصادیات خدشہ ظاہر کررہے ہیں کہ ملک میں اس سال ترقی کی شرح پچھلے سات برسوں میں اپنی سب سے کم سطح یعنی چھ فیصد تک گرسکتی ہے۔ 2008 اور 09 میں یہ سات فیصد تھی جب کہ اس کے پہلے کے برسوں میں یہ نو فیصد تک پہنچ گئی تھی۔ لیکن عالمی مندی کی وجہ سے ایکسپورٹ سیکٹر بری طرح متاثر ہوا ہے۔ ایکسپورٹ میں گذشتہ اپریل میں پچھلے سال اسی ماہ کے مقابلے 33 فیصد کی گراوٹ آئی جب کہ صنعتی پیداوار کی شرح میں بھی 2.4 فیصد کی کمی درج کی گئی۔ اقتصادی امور کے ماہرسنیل جین کا خیال ہے کہ ڈاکٹر سنگھ معیشت کو بحال کر نے میں کامیاب ہوجائیں گے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ یو پی اے کو دوبارہ اقتدار تک پہنچانے میں اس بار بڑی تعداد میں نوجوانوں ووٹروں نے اہم کردار ادا کیا ہے اس لئے بے روزگاری کے مسئلے کو نظرانداز کرنا حکومت کے لئے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔ خیال رہے کہ عالمی کساد بازاری کی سبب بھارت میں پانچ لاکھ افراد کو اپنی ملازمتوں سے ہاتھ دھونا پڑاہے۔ یو پی اے نے انتخابی مہم کے دوران اپنے سب سے اہم پروگرام قومی دیہی روزگار گارنٹی قانون (NREGA) کو زیادہ موثر انداز میں نافذ کرنے کا وعدہ کیا تھا جس میں سال بھرمیں 100 دن کے روزگار کی ضمانت دی گئی ہے‘لیکن تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ نوجوان صرف 100 دنوں کی ملازمت سے مطمئن نہیں ہوسکتے۔ ماہراقتصادیات پرانجئے ٹھاکر کا خیال ہے حکومت حالانکہ 100 دنوں کا پیکج تیارکررہی ہے لیکن بہت کچھ عالمی صورت حال پر منحصرکرے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگرامریکہ کی وال اسٹریٹ میں کچھ ہوگیا اگر ڈیٹرائٹ میں حالت خراب ہوگئی تو اس کا اثر بھارت پربھی پڑنا لازمی ہے۔

افتخار گیلانی‘ نئی دہلی