1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

معمر قذافی کہاں ہیں؟ مختلف قیاس آرائیاں

بین الاقوامی میڈیا کے مطابق پچھلے 12 روز سے معمر قذافی ٹیلی وژن سمیت کہیں دکھائی نہیں دیے۔

default

معمر قذافی

لیبیا کے حکمران معمر قذافی کو آخری مرتبہ سرکاری ٹیلی وژن پر 30 اپریل کو خطاب کرتے دکھایا گیا تھا، جس میں انہوں نے دھمکی دی تھی کہ اگر نیٹو نے ان سے مذاکرات نہیں کیے تو وہ اپنی آخری سانس تک لڑیں گے۔ اس تقریر کے چند ہی گھنٹوں بعد نیٹو طیاروں کی بمباری میں ان کا سب سے چھوٹا بیٹا ہلاک ہوگیا تھا۔

قذافی کی اتنے دنوں سے عوامی طور غیر حاضری کے باعث مختلف قیاس آرائیاں جنم لے رہی ہیں۔ انہی قیاس آرائیوں کے حوالے سے فرانس کی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان بیرنارڈ ولیرو Bernard Valero نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس معمر قذافی کے بارے میں کوئی معلومات نہیں۔

NATO-Generalsekretär Rasmussen

نیٹو کے سیکرٹری جنرل آندرس فوگ راسموسن جمعہ کو امریکی صدر باراک اوباما سے مل رہے ہیں

نیٹو حکام کے مطابق لیبیا کے خلاف 31 مارچ سے جاری آپریشن کے دوران اس کے طیارے اب تک قریب 6000 پروازیں کر چکے ہیں، جن کے دوران قریب 2300 فضائی حملے کیے گئے۔

دوسری طرف باغیوں نے دعوٰی کیا ہے کہ انہوں نے قذافی کی حامی فورسز کے ساتھ شدید لڑائی کے بعد مصراتہ کے ایئرپورٹ پر قبضہ کر لیا ہے۔ الجزیرہ ٹیلی وژن نے باغیوں کے ایک ترجمان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ باغی مصراتہ ایئرپورٹ کا مکمل کنٹرول سنبھال چکے ہیں۔ باغیوں کی طرف سے گزشتہ کئی ہفتوں کے دوران یہ پہلی اہم کامیابی ہے۔

Ban Ki Moon Pressekonferenz New York

شہریوں پر حملے روکے جائیں اور فوری طور پر جنگ بندی کو یقینی بنایا جائے، بان کی مون

ادھر امریکی صدر باراک اوباما جمعہ کے روز نیٹو کے سیکرٹری جنرل آندرس فوگ راسموسن سے مل رہے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق وائٹ ہاؤس میں ہونے والی اس ملاقات میں لیبیا میں نو فلائی زون کو یقینی بنانے اور معمر قذافی کی طرف سے شہریوں کو نشانہ بنانے سے باز رکھنے کے لیے نیٹو کی طرف سے جاری آپریشن پر بھی بات کی جائے گی۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے لیبیا حکومت پر زور دیا ہے کہ شہریوں پر حملے روکے جائیں اور فوری طور پر جنگ بندی کو یقینی بنایا جائے۔ بان کی مون نے میڈیا کو بتایا کہ لیبیا کے وزیراعظم سے ٹیلی فون پر بات چیت کے بعد وہ ایک خصوصی نمائندہ طرابلس بھیج رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے لیبیا حکام پر زور دیا ہے کہ فوری طور پر جنگ بندی کر کے مسئلے کا پُر امن حل تلاش کرنے کے لیے مذاکرات کیے جائیں۔ مزید یہ کہ امدادی کارکنوں کو آزادانہ کام کرنے کی اجازت دی جائے۔

رپورٹ: افسر اعوان

ادارت: امجد علی

DW.COM