1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

معمر قذافی کو جانا ہو گا، لیبیا گروپ

مغربی طاقتوں اور مشرقی وسطیٰ کی ریاستوں پر مشتمل گروپ نے لیبیا کے رہنما معمر قذافی پر زور دیا ہے کہ وہ اقتدار چھوڑ دیں۔ اس گروپ میں یورپی اور مشرقِ وسطیٰ کے ممالک، اقوام متحدہ، عرب لیگ اور افریقی یونین شامل ہیں۔

default

لیبیا کے رہنما معمر قذافی

لیبیا کے بحران کے تناظر میں ’کانٹیکٹ گروپ‘ کہلانے والے ان تمام فریقین کی جانب سے قذافی کے اقتدار سے علیحٰدہ ہونے کا مشترکہ مطالبہ پہلی مرتبہ سامنے آیا ہے۔ خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق اس گروپ نے اپنے اعلامیے میں کہا ہے، ’قذافی اقتدار رکھنے کے لیے ہر طرح کی قانونی حیثیت کھو چکے ہیں۔ انہیں جانا ہوگا تاکہ لیبیا کے عوام اپنے مستقبل کا تعین کر سکیں۔’

اس گروپ کا یہ بھی کہنا ہے کہ باغیوں کی قومی کونسل کو عوامی امنگوں کی ترجمانی کا حق حاصل ہے۔ اس مطالبے اور باغیوں کی کھلی حمایت کو اب تک سامنے آنے والا پرزور بیان قرار دیا جا رہا ہے۔ روئٹرز کا کہنا ہے کہ گروپ کے شرکاء باغیوں کو اپنے زیرانتظام مشرقی علاقوں میں معاملات چلانے میں مدد دینے کے لیے مالی امداد کے طریقہ کار پر بھی کام کریں گے۔

اس گروپ نے باغیوں کو ’میٹریل سپورٹ’ کی فراہمی پر بھی اتفاق کیا ہے۔ اس حوالے سے بیان میں کوئی تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔ تاہم روئٹرز نے سفارتی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ بعض ممالک کی نظر میں اس معاونت کا مطلب ہتھیاروں کی فراہمی ہو سکتا ہے۔

قطر کے وزیر اعظم حمد بن جاسم آل ثانی کا کہنا ہے کہ میٹریل سپورٹ میں ’دیگر تمام ضروریات کے ساتھ دفاعی آلات بھی شامل ہو سکتے ہیں۔’

Hillary Clinton Libyen Luftangriffe

امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن

دوسری جانب فرانس کے صدارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پیرس حکومت لیبیا کے باغیوں کو ہتھیاروں کی فراہمی کا ارادہ نہیں رکھتی۔

اُدھر امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نیٹو کے مذاکرات کے لیے بدھ کو رات گئے جرمن دارالحکومت برلن پہنچیں۔ جمعرات سے شروع ہونے والا نیٹو کا یہ دو روزہ اجلاس لیبیا کے معاملے پر جاری بین الاقوامی مشاورتی نشستوں کا حصہ ہے۔

برطانیہ اور فرانس نیٹو میں اپنے اتحادیوں پر زور دے رہے ہیں کہ لیبیا کے مشن کے لیے مزید جنگی طیارے فراہم کیے جائیں۔

فرانس کے وزیر خارجہ الان جوپے کا کہنا ہے کہ وہ برلن کے مذاکرات میں اس حوالے سے اپنی تشویش ظاہر کریں گے۔ امریکی محکمہ دفاع نے بھی بتایا ہے کہ ان کے طیارے تاحال لیبیا آپریشن میں شامل ہیں۔ قبل ازیں امریکہ کی طرف سے اس مشن سے نکلنے کا اعلان سامنے آ چکا ہے۔

اُدھر قطر میں بدھ کو ہونے والے عالمی طاقتوں کے اجلاس میں باغیوں کی مالی امداد کا وعدہ کیا گیا ہے۔

رپورٹ: ندیم گِل/خبرساں ادارے

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM

ویب لنکس