1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

معمر قذافی کا زوال: اوباما کی کیمرون اور سارکوزی پر تنقید

امریکی صدر باراک اوباما کے مطابق معمر قذافی کے دور میں لیبیا میں نیٹو کی فوجی مداخلت کے دوران برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کی توجہ اصل مقصد سے ہٹ گئی تھی جبکہ فرانسیسی صدر سارکوزی اپنے ملک کی تشہیر کرنا چاہتے تھے۔

Muammar Al Gaddafi Portrait

لیبیا میں قذافی کے دور اقتدار کے خاتمے کے بعد سے یہ ملک نہ صرف خانہ جنگی کی طرح کی صورت حال کا شکار رہا ہے

واشنگٹن سے جمعہ گیارہ مارچ کو ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق امریکی صدر اوباما نے یہ بات جریدے ’دا اٹلانٹک‘ کے ساتھ اپنے ایک تفصیلی انٹرویو میں کہی ہے۔

DW.COM

اس انٹرویو میں اوباما نے، جو اس وقت بھی امریکا کے صدر تھے جب معمر قذافی کے دور اقتدار کے خاتمے سے کچھ ہی پہلے مغربی دفاعی اتحاد نیٹو نے لیبیا میں فوجی مداخلت کی تھی، کہا کہ اس مشن کے حوالے سے برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون اپنی ’توجہ مرکوز نہیں کر سکے تھے‘ جبکہ فرانسیسی صدر نکولا سارکوزی کی کوشش تھی کہ کسی طرح فرانس کی تشہیر کی جائے۔

اے ایف پی نے لکھا ہے کہ The Atlantic کے ساتھ اس انٹرویو میں باراک اوباما نے اس موضوع پر تفصیلی اظہار رائے کیا کہ معمر قذافی کے طویل دور اقتدار کا خاتمہ کن حالات میں ہوا اور لیبیا میں نیٹو کی فضائی بمباری میں برطانیہ اور فرانس نے اپنی شمولیت کے فیصلے کن حالات میں کیے۔

لیکن بہت اہم بات یہ بھی ہے کہ اسی اظہار رائے کے دوران امریکی صدر نے واشنگٹن کے قریب ترین اتحادی ملکوں کے رہنماؤں پر غیر معمولی تنقید کرنے سے بھی گریز نہ کیا۔ عام طور پر امریکا اور اس کے اتحادی ملکوں کے مابین قیادت کی اعلیٰ ترین سطح پر ایسی تنقید دیکھنے یا سننے میں نہیں آتی۔

اس سوال کے جواب میں کہ لیبیا میں یا لیبیا کے حوالے سے غلطی کہاں پر ہوئی، باراک اوباما نے کہا، ’’تنقید کی جگہ تو موجود ہے۔ اس لیے کہ لیبیا کے بارے میں اس ملک سے جغرافیائی طور پر قریب ہونے کے باعث مجھے یورپی ملکوں پر بہت اعتماد تھا۔‘‘

USA Präsident Obama zu Lage in Nahost

اوباما کے مطابق قذافی کے دور میں لیبیا میں نیٹو کی فوجی مداخلت کے دوران برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کی توجہ اصل مقصد سے ہٹ گئی تھی

امریکی صدر نے کہا، ’’لیبیا میں فوجی آپریشن کے فوراﹰ بعد ڈیوڈ کیمرون نے اس طرف توجہ دینا بند کر دی تھی، ان کا دھیان بٹ کر کئی دوسری باتوں کی طرف لگ گیا تھا۔‘‘ فرانس کے کردار کے بارے میں صدر اوباما نے کہا، ’’اس فضائی مہم کے دوران صدر سارکوزی فرانسیسی طیاروں کی پروازوں کا ڈھول پیٹنا چاہتے تھے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ تب تک ہم نے لیبیا کے پورے فضائی دفاعی نظام کا صفایا کر دیا تھا اور اس آپریشن کے لیے ہر طرح کا انفراسٹرکچر بھی مہیا کر چکے تھے۔‘‘

لیبیا میں قذافی کے دور اقتدار کے خاتمے کے بعد سے یہ ملک نہ صرف خانہ جنگی کی طرح کی صورت حال کا شکار رہا ہے بلکہ اسے ابھی تک انتشار کا سامنا ہے۔ اس ملک پر اس وقت متحارب ملیشیا گروپوں کی حکمرانی ہے، جن کی اقتدار کے لیے باہمی جنگ ابھی تک ختم نہیں ہوئی جبکہ شام اور عراق کے وسیع علاقوں پر قابض عسکریت پسند گروہ ’اسلامک اسٹیٹ‘ بھی اب تک اس ملک میں کافی اثر و رسوخ حاصل کرنے میں کامیاب ہو چکا ہے۔