1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

معمر قذافی کا بیٹا نیٹو فضائی حملے میں ’ہلاک‘

لیبیا کے رہنما معمر قذافی کے سب سے چھوٹے بیٹے اور تین پوتے طرابلس میں نیٹو کے ایک فضائی حملے میں ہلاک ہوگئے ہیں۔ یہ واقعہ نیٹو اور باغیوں کی جانب سے قذافی کی جنگ بندی کی پیشکش کے مسترد کیے جانے کے بعد پیش آیا ہے۔

default

اتوار کے روز طرابلس میں ایک نیوزکانفرس میں لیبیا کے حکومتی ترجمان موسی ابراہیم نے بتایا کہ 29 سالہ سیف العرب قذافی ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب نیٹو کے لڑاکا طیاروں کی طرف سے کیے گئے ایک ’طاقتور حملے‘ کے نتیجے میں ہلاک ہوئے۔ ترجمان کے مطابق نیٹو طیاروں کی طرف سے یہ حملہ دارالحکومت طرابلس میں سیف العرب قذافی کی رہائش گاہ پر کیا گیا۔

ترجمان کے مطابق حملے کے وقت معمر قذافی اور ان کی اہلیہ بھی اسی عمارت میں موجود تھے، تاہم یہ دونوں اس حملے میں مکمل طور پر محفوظ رہے۔ واضح رہے کہ آزاد ذرائع سے اس خبر کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ تاہم لیبیا کی حکومت نے مقامی اور دوسرے صحافیوں کی ایک ٹیم کو تباہ شدہ گھر تک جانے کی اجازت دی ہے۔

دوسری جانب اس خبر کے پھیلتے ہی باغیوں کے مرکزی شہر بن غازی میں عوام سڑکوں پر خوشی کا اظہار کر رہے ہیں۔ اس موقع پر شہر بھر میں فائرنگ کی آوازیں بھی سنی گئی۔ فائرنگ کا سلسلہ رات گئے تک جاری رہا۔

باغیوں کے ترجمان احمد عمر کے مطابق عوام بہت خوش ہیں کہ قذافی نے ایک فضائی حملے میں اپنا بیٹا کھو دیا ہے۔ ’’اسی خوشی کے اظہار میں باغی ہوائی فائرنگ کر رہے ہیں۔‘‘

بن غازی کے شمالی علاقے میں ساحلی سڑک پر بھی کاروں میں سوار درجنوں افراد نے بھی ہارن بجا کر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے ’’خدا سب سے بڑا ہے‘‘ کے نعرے لگائے۔

احمد عمر کا کہنا ہے کہ باغیوں کی جانب سے اس مسرت کے موقع پر بارودی مواد بھی پھاڑا گیا، جبکہ اینٹی ایئر کرافٹ مشین گنوں سے تقریبا آدھے گھنٹے تک مسلسل فائرنگ کی گئی۔ انہوں کے کہا کہ ہوائی فائرنگ کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ بن غازی کی سڑکیں محفوظ نہیں ہیں۔ ’’شہر میں ہوائی فائرنگ کی جا رہی ہے مگر شہر کی تمام گلیاں اور سڑکیں مکمل طور پر محفوظ ہیں۔‘‘

دوسری جانب لیبیا کی سرکاری فوج کی جانب سے باغیوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔ اطلاعات کے مطابق قذافی کی حامی فوج نے بن غازی شہر کے جنوب میں واقع علاقے جلو پر شدید بمباری کی، جس کے نتیجے میں کم از کم پانچ افراد ہلاک ہو گئے۔

اپوزیشن جماعتوں کی عسکری کمان کے ترجمان کرنل احمد عمر کے مطابق اس واقعے میں دس باغی زخمی بھی ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ قذافی کی حامی افواج کی جانب سے جلو شہر پر قبضے کے لیے کیا جانے والا بڑا حملہ پسپا کر دیا گیا ہے تاہم جلو کے نواح میں واقع ایک قصبہ قذافی کی حامی افواج کے قبضے میں چلا گیا ہے۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : عابد حسین

DW.COM

ویب لنکس