1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

معمر قذافی کا بیٹا خمیس اور خفیہ ادارے کا سربراہ ہلاک، قذافی مخالف فوج

لیبیا میں قذافی مخالف عسکری کمان کے ترجمان نے کہا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ قذافی کا بیٹا خمیس اور خفیہ ادارے کا سربراہ عبداللہ سنوسی اپنے یونٹس کے ساتھ باغیوں کے خلاف لڑتے ہوئے ہلاک ہو گئے ہیں۔

default

پیر کے روز سامنے آنے والے بیان میں قذافی مخالف فوج کے ترجمان نے کہا کہ باغیوں کو اس بات کا ’تقریبا یقین‘ ہے، تام قومی عبوری کونسل کے سربراہ نے اس خبر کی تصدیق کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

اگر یہ خبر درست ہوئی، تو لیبیا میں قذافی حکومت کے خلاف گزشتہ چھ ماہ قبل شروع ہونے والی تحریک میں اس سطح کی کسی بڑی شخصیت کی ہلاکت کا یہ پہلا واقعہ ہو گا۔

معمر قذافی کی مخالف فوج کے ترجمان احمد بنی نے عرب نشریاتی ادارے العربیہ کو دیے گئے ایک بیان میں کہا، ’ہمیں تقریبا یقین ہے کہ خمیس قذافی اور عبداللہ سنوسی کی ہلاکت کی اطلاع درست ہے۔ یہ دونوں قومی لبریشن فوج کے ساتھ طرابلس کے جنوب میں جھڑپوں کے دوران  ہلاک ہوئے۔‘‘

Bürgerkrieg in Libyen Erfolg der Rebellen Flash-Galerie

قذافی مخالف اس خبر پر خوشی مناتے ہوئے

واضح رہے کہ خمیس قذافی کی ہلاکت کے دعوے اس سے پہلے بھی دو مرتبہ سامنے آچکے ہیں۔ پیر کے روز قومی عبوری کونسل کے سربراہ مصطفیٰ عبدالجلیل نے بھی کہا کہ انہیں بھی ان ہلاکتوں کے حوالے سے باقاعدہ مطلع نہیں کیا گیا ہے۔

دریں اثناء الجزائر کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ لیبیا کے روپوش رہنما معمر قذافی کی بیوی اور تین بچے الجزائر میں ہیں۔ بیان کے مطابق معمر قذافی کی اہلیہ صفیہ، بیٹی عائشہ، بیٹے ہنیبل اور محمد پیر کی صبح الجزائر میں داخل ہوئے ہیں۔ دوسری جانب لیبیا کی قومی عبوری کونسل نے الزام عائد کیا ہے کہ الجزائر معمر قذافی اور لیبیا میں خانہ جنگی کی حمایت کرتا آیا ہے۔ الجزائر نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔

دوسری جانب قذافی مخالف جنگجو معمر قذافی کے آبائی شہر سرِت کے باہر موجود ہیں اور شہر میں فوجی ٹھکانوں کے خلاف نیٹو فورسز کی فضائی کارروائیاں بھی جاری ہیں۔ قومی عبوری کونسل کے رہنما سِرت شہر کے قبائلی عمائدین سے مذاکرات میں مصروف ہیں، تاکہ طاقت کے استعمال کے بغیر ہی شہر میں داخل ہوا جا سکے۔ ادھر قومی عبوری کونسل کے زیرقبضہ دارالحکومت طرابلس میں اب بھی عام شہری پانی، غذا، بجلی اور ایندھن کی کمی شکار ہیں۔

رپورٹ: عاطف توقیر /  خبر رساں ادارے

ادارت:  شامل شمس

DW.COM