1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

معمر قذافی نفسیاتی مریض ہیں، جرمن صدر وولف

لیبیا میں حکومت مخالف مظاہرین کے خلاف خونریز کارروائیوں کی بین الاقوامی سطح پر شدید مذمت کی جا رہی ہے اور جرمن صدر کرسٹیان وولف نے کہا ہے کہ معمر قذافی ایک نفسیاتی مریض ہیں، جو لیبیا کے عوام کو دہشت زدہ کر رہے ہیں۔

default

وفاقی جرمن صدر وولف نے برلن میں جرمنی کے دورے پر آئے ہوئے اطالوی صدر گیورگیو ناپولیتانو کے ساتھ اپنی بات چیت کے بعد کہا کہ لیبیا میں اس وقت جو کچھ ہو رہا ہے، وہ ریاستی دہشت گردی کے زمرے میں آتا ہے۔

جرمن سربراہ مملکت کے بقول یہ بات بالکل عیاں ہے کہ شمالی افریقی ریاست لیبیا میں حکمران جس رویے کا مظاہرہ کر رہے ہیں، اسے صرف ’ذہنی بیماری کا عکاس‘ رد عمل ہی کیا جا سکتا ہے۔

Bundespräsident Christian Wulff

وفاقی جرمن صدر کرسٹیان وولف

اسی دوران طرابلس، قاہرہ، واشنگٹن اور مختلف یورپی دارالحکومتوں سے ملنے والی خبر ایجنسیوں کی رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ لیبیا میں ریاستی طاقت کے استعمال کے نتیجے میں عام شہریوں کے قتل کے واقعات ختم ہونے میں نہیں آ رہے اور بین الاقوامی رہنماؤں کی طرف سے معمر قذافی کی مذمت میں اٹھائی جانے والی آوازیں زیادہ اور بلند تر ہوتی جا رہی ہیں۔

لیبیا کی مسلسل خراب ہوتی جا رہی صورت حال پر عالمی تشویش اس لیے بھی زیادہ ہوتی جا رہی ہے کہ کل جمعرات کو الزاویہ نامی شہر میں قذافی کے حامی دستوں نے حکومت مخالف شہریوں کے خلاف خونریز کارروائی کی، جس کے بعد عینی شاہدوں نے اس شہر میں نظر آنے والے حالات کو کسی مذبحہ خانے کے منظر سے تشبیہ دی۔

عرب ٹیلی وژن ادارے الجزیرہ کے مطابق جمعرات کو الزاویہ میں مظاہرین اور حکومتی دستوں کے درمیان شدید جھڑپیں بھی ہوئیں، ان کے بعد ’شہر میں اب تک ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی گنتی کرنا بہت مشکل‘ ہو چکا یے۔ ان جھڑپوں کے بعد معمر قذافی نے سرکاری ٹیلی وژن پر اپنے ایک ٹیلی فونک پیغام میں کہا کہ لیبیا میں موجودہ مظاہروں کی ذمہ داری دہشت گرد نیٹ ورک القاعدہ اور اس کے رہنما اسامہ بن لادن پر عائد ہوتی ہے۔ قذافی نے بظاہر یہ ناقابل فہم الزام بھی لگایا کہ الزاویہ میں مظاہرے کرنے والے افراد منشیات کے زیر اثر تھے۔

Proteste in Libyen Flüchtlinge

لیبیا میں بدامنی کے باعث وہاں سے رخصت ہونے والے مصر اور تیونس کے باشندے

جمعرات کی رات الزاویہ کے علاوہ ملک کے دوسرے سب سے بڑے اور بندرگاہی شہر بن غازی سمیت متعدد دیگر شہروں سے بھی لیبیا کی موجودہ حکومت کے خلاف بھرپور عوامی مظاہروں کی رپورٹیں ملی تھیں۔

دریں اثناء آج جمعہ کو جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل کا ایک ہنگامی اجلاس بھی ہو رہا ہے، جس میں لیبیا کی تازہ ترین صورت حال پر غور کیا جا رہا ہے۔ کل جمعرات کو سوئٹزرلینڈ کی حکومت نے ملک میں معمر قذافی اور ان کے اہل خانہ کے جملہ اثاثے بھی منجمد کر دیے تھے۔

ادھر بوڈاپیسٹ سے ملنے والی رپورٹوں میں مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے سیکریٹری جنرل آندرس فوگ راسموسن کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ نیٹو کونسل کا ایک ہنگامی اجلاس آج جمعہ کی سہ پہر برسلز میں ہو رہا ہے، جس میں لیبیا کی تازہ ترین صورت حال پر تفصیلی مشاورت کی جائے گی۔ راسموسن نے کہا کہ وہ برسلز میں اس اجلاس سے پہلے یورپی یونین کے رکن ملکوں کے وزرائے دفاع سے بھی ملیں گے تاکہ یہ جائزہ لیا جا سکے کہ لیبیا میں مدد کے ضرورت مند عوام کے لیے کس طرح کیا کچھ کیا جا سکتا ہے۔

UN Sicherheitsrat in New York

عالمی سلامتی کونسل لیبیا سے متعلق برطانیہ اور فرانس کے پیش کردہ مسودہء قرارداد پر بحث کرے گی

پیرس سے موصولہ رپورٹوں میں فرانسیسی خاتون وزیر خارجہ آلیو ماری کے آج جمعہ کو دیے گئے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ برطانیہ اور فرانس مل کر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کیے گئے ایک مسودہء قرارداد کے ذریعے یہ چاہتے ہیں کہ لیبیا کو ہر قسم کے ہتھیار فراہم کرنے پر پابندی لگائی جائے، اس کے خلاف مالی پابندیاں بھی عائد کی جائیں اور ساتھ ہی بین الاقوامی فوجداری عدالت سے یہ درخواست بھی کی جائے کہ وہ لیبیا کے رہنماؤں کے خلاف انسانیت کے خلاف جرائم کے الزام میں کارروائی کرے۔

اس برطانوی فرانسیسی مسودہء قرارداد پر بحث کے لیے سلامتی کونسل کا ایک اجلاس آج جمعہ کو ہو رہا ہے تاہم یہ امید نہیں کی جا رہی کہ نیو یارک میں مقامی وقت کے مطابق سہ پہر تین بجے ہونے والے اس اجلاس میں اس مسودے پر کوئی باقاعدہ رائے شماری بھی عمل میں آئے گی۔

رپورٹ: مقبول ملک

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM

ویب لنکس