1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

معمر قذافی، جنگ بندی کے لیے تیار

لیبیا کے رہنما معمر قذافی نے ہفتے کی صبح سرکاری ٹی وی چینل پر اپنے ایک خطاب میں کہا ہے کہ نیٹو اپنے لڑاکا طیاروں کو بمباری سے روک دے، تو وہ جنگ بندی کے لیے تیار ہیں۔

default

80 منٹ تک جاری رہنے والی اس تقریر میں قذافی نے ہاتھ میں کاغذوں کا ایک دستہ پکڑ رکھا تھا، جس پر بظاہر ہاتھ سے لکھی ہوئی تحریر وہ پڑھ رہے تھے۔ انہوں نے نیٹو سے حملے روکنے کا مطالبہ کیا اور کہا، ’لیبیا جنگ بندی کے لیے تیار ہے مگر یہ یک طرفہ نہیں ہو گی‘۔ قذافی نے کہا کہ امن کا دروازہ ابھی کھلا ہے۔ قذافی نے اپنے خطاب میں ایک مرتبہ پھر اقتدار چھوڑنے کے مطالبات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ نہ تو وہ اقتدار سے الگ ہوں گے اور نہ ہی ملک چھوڑیں گے، ’ہم نے سب سے پہلے جنگ بندی کا خیرمقدم کیا تھا اور ہم نے ہی سب سے پہلے جنگ بندی کو تسلیم بھی کیا تھا، تاہم نیٹو نے اپنے حملے نہ روکے‘۔

لیبیا میں رواں برس فروری میں غیرتربیت یافتہ اور ناقص ہتھیاروں کے حامل اپوزیشن گروپوں نے 41 برسوں سے ملک پر حکومت کرنے والے معمر قذافی کے خلاف مسلح جدوجہد کا آغاز کیا تھا اور بعد میں اقوام متحدہ کی ایک قرارداد کو بنیاد بنا کر شہریوں کے تحفظ کے لیے نیٹو ممالک نے بھی معمر قذافی کی حامی فورسز کے خلاف لڑاکا طیاروں کی مدد سے حملے شروع کیے تھے، جو تاحال جاری ہیں۔

قذافی نے اپنے خطاب میں نیٹو افواج پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ ان کی طرف سے کیے جانے والے فضائی حملے اور بحری گشت اقوام متحدہ کے مینڈیٹ سے تجاوز کر چکے ہیں۔ انہوں نے روس، چین، افریقی اور لاطینی امریکی ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ اقوام متحدہ کی اس قرارداد پر نظرثانی کے لیےسکیورٹی کونسل پر دباؤ ڈالیں۔

Frankreich Luftwaffe Kampfjet Dassault Rafale über Libyen

نیٹو کی فضائی کارروائیاں جاری ہیں

قذافی نے کہا کہ لیبیا کے خلاف عائد کی گئی پابندیوں اور نیٹو طیاروں کے حملوں کے نتیجے میں عام شہری متاثر ہو رہے ہیں جبکہ لیبیا کا انفراسٹرکچر تباہ ہو رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اپنے گزشتہ بیانات میں باغیوں کو ’چوہے‘ اور دہشت گرد کہنے والے قذافی کا لہجہ اس خطاب میں خاصا نرم تھا۔ انہوں نے کہا کہ لیبیا کے باشندوں کوآپس میں نہیں لڑنا چاہیے۔

رپورٹ عاطف توقیر

ادارت عاطف بلوچ

DW.COM

ویب لنکس