1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

معمر القذافی کی برطانیہ کو شدید نتائج کی دھمکی، وکی لیکس

وکی لیکس کی جانب سے امریکی خفیہ دستاویزات منظر عام پر آنے کا سلسلہ جاری ہے اور تازہ لیکس کے مطابق لاکربی بمبار کی رہائی کے لیے لیبیا کی جانب سے برطانوی حکومت پر شدید سفارتی اور تجارتی دباؤ ڈالا گیا تھا۔

default

برطانوی اخبار گارڈین میں چھپنے والی تازہ لیکس کیبلز کے مطابق برطانوی حکومت عبدالباسط المغراہی کی رہائی کے معاملے پر سخت اور فوری ردعمل سے خوف زدہ تھی۔ لیبیا کے صدر معمر قذافی کی حکومت نے، جسے اس سفارتی کیبل میں ’یقینی ٹھگ‘ کا نام دیا گیا ہے، برطانیہ کو دھمکی دی تھی کہ وہ برطانیہ کے ساتھ تمام تر تجارتی معاہدے معطل کر دے گی۔

ان کیبلز کے مطابق دوسری طرف طرابلس حکومت نے سکاٹ لینڈ کو، جہان المغراہی قید تھا، خوش کن سلوک کی یقین دہانی کرائی تھی۔ سکاٹ لینڈ حکومت نے متنازعہ طور پر اگست 2009ء میں خراب صحت کو بنیاد بنا کر المغراہی کو رہا کر دیا تھا۔

کینسر کے مرض میں مبتلا لیبیا کا سابق ایجنٹ عبدالباسط المغراہی ان دنوں لیبیا میں زندگی گزار رہا ہے۔ المغراہی کو سال 2001ء میں پین ایم ایئرلائن کے ایک جہاز کو سکاٹ لینڈ کے ایک قصبے لاکربی کی فضاؤں میں تباہ کرنے کے جرم میں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ تاہم المغراہی ہمیشہ سے اس الزام کی تردید کرتا رہا ہے۔

Arabische Liga 2010 Libyen NO FLASH

"لیبیا کے صدر معمر قذافی کی حکومت نے برطانیہ کو دھمکی دی تھی کہ وہ برطانیہ کے ساتھ تمام تر تجارتی معاہدے معطل کر دے گی" : وکی لیکس

المغراہی کی رہائی کےسبب برطانیہ اور امریکہ کے سفارتی تعلقات میں تناؤ پیدا ہوگیا تھا کیونکہ پین ایم کے تباہ ہونے والے جہاز پر 207 افراد سوار تھے، جو تمام کے تمام ہلاک ہوگئے تھے۔ ان میں سے 189 ہلاک شدگان امریکی شہری تھے۔

برطانوی اخبار گارڈین کے مطابق لندن میں تعینات امریکی چارج ڈی افیئرز رچرڈ لیبارن نے امریکی محکمہ خارجہ کواکتوبر 2008ء میں بھیجے جانے والے اپنے ایک کیبل میں لکھا، ’’لیبیا نے برطانوی حکومت کو صاف صاف بتا دیا ہے کہ اگر المغراہی کی قبل از وقت رہائی کے معاملے کو درست طور پر ہینڈل نہیں کیا گیا، تو لیبیا اور برطانیہ کے باہمی تعلقات پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔‘‘

سکاٹ لینڈ کی مقامی حکومت کے سربراہ ایلکس سیلمنڈ نے گارڈین میں آشکار کی جانے والی اس کیبل کو ’سفارتی یاوہ گوئی‘ قرار دیا ہے۔

رپورٹ: افسر اعوان

ادارت: امجد علی

DW.COM

ویب لنکس