1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

معصومہ مرادی، افغانستان کی واحد خاتون گورنر

معصومہ مرادی افغانستان میں واحد خاتون گورنر ہیں۔ تاہم ایک ایسے معاشرے میں جہاں مردوں کی حکمرانی چلتی ہے، مرادی کو بھی بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے۔ مرادی کے مخالفین ان کوعہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

Afghanistan Daikundi Masooma Muradi

معصومہ مرادی افغانستان کی پہلی خاتون گورنر ہیں جو صنفی امتیاز کے خلاف ڈٹی ہوئی ہیں

منکسر المزاج سادہ کپڑوں میں ملبوس، اہلکاروں اور مشیروں میں گھری معصومہ مرادی افغانستان کی پہلی خاتون گورنر ہیں جو ایک ایسے معاشرے میں صنفی امتیاز کے خلاف ڈٹی ہوئی ہیں جہاں مردوں پر خواتین کی حکمرانی کا رواج نہیں۔ روایت کے خلاف افغانستان کے پسماندہ صوبے ڈئی کنڈی میں مرادی کی بطور گورنر تقرری ایک قابل ذکر کارنامہ ہے۔ تاہم صدر اشرف غنی کو انہیں گورنر کا عہدہ تفویض کیے ابھی بمشکل ایک سال ہی ہوا ہو گا کہ مرادی کے مخالفین اور مذہبی انتہا پسندوں کی جانب سے ان کو اپنے عہدے سے ہٹائے جانےکے مطالبات بڑھتے جا رہے ہیں ۔ اس صورت حال سے صاف ظاہر ہے کہ ایسے نظام میں جہاں مردوں کی اجارہ داری کا تحفظ کیا جاتا ہو کسی اکیلی عورت کو اپنی حیثیت منوانے کے لیے کتنی سخت محنت کرنی پڑتی ہے۔ سینتیس سالہ معصومہ مرادی نےصوبائی دارالحکومت نیلی میں قائم اپنے دفتر میں خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کے دوران کہا،’’ لوگ کھلے ذہن ہونے کا دعوی تو کرتے ہیں لیکن ان میں سے بیشتر ایک عورت کو ایسے مقام پر پہنچتے دیکھنا برداشت نہیں کر سکتے۔

مرادی نے مزید کہا ،’’میں مردوں کو اس بات کی اجازت نہیں دوں گی کہ وہ مجھے دبانے کی کوشش کریں۔ ہمارے معاشرے کو اس طرح کے عہدوں پر خواتین کو دیکھنے کی عادت نہیں ہے۔‘‘ دو بچوں کی والدہ معصومہ مرادی کو صدر اشرف غنی نے خود ڈئی کنڈی کی قیادت کے لیے منتخب کیا تھا۔ وسطی افغانستان میں واقع ڈئی کنڈی کاصوبہ دیگر شورش زدہ صوبوں میں گھرا ہوا ہے۔

Aschraf Ghani Präsident von Afghanistan

معصومہ مرادی کو صدر اشرف غنی نے خود ڈئی کنڈی کی قیادت کے لیے منتخب کیا تھا

اس سے پہلے کہ مرادی گورنر کا عہدہ با قاعدہ طور پر سنبھالنے ڈئی کنڈی آتیں ، ان کے سیاسی مخالفین کی جانب سے احتجاج کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ زیادہ تر نے گورننس کے شعبے میں تجربے کے فقدان پر ان کو ہدف بنایا۔ افغانستان میں طالبان کی حکومت کے سن 2001 میں خاتمے کے بعد سے خواتین مختلف شعبہ ہائے زندگی میں آگے آئی ہیں تاہم اب بھی عوامی سطح پر ان کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سوشل میڈیا ہیش ٹیگ پر بھی اس موضوع پر زور و شور سے بحث جاری ہے۔

افغانستان میں اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے کنٹری ڈائریکٹر ڈگلس کیہ کے مطابق افغانستان میں اب بھی عمومی رویہ ایسا ہی ہےکہ لوگ ایک خاتون کی سربراہی قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ انہوں نے مزید کہا،’’ خواتین رہنماؤں کو وہ تمام حمایت حاصل کرنے کی ضرورت ہے جو انہیں ملنی چاہیے۔‘‘ یاد رہے کہ ڈئی کنڈی کا صوبہ افغانستان کے ان چونتیس صوبوں میں شامل ہے جن کا انتطام چلانے میں بہت سے چیلنجز درپیش ہیں۔ سال کے کئی ماہ یہ صوبہ برف باری کی وجہ سے باہر کی دنیا سے کٹا رہتا ہے ۔ اس کی معیشت کا واحد دارومدار یہاں موجود بادام کے جنگلات ہیں جنیں اکثر موسم کی سفاکی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

DW.COM