1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

معرکہ سوم کی صد سالہ تقریبات

پہلی عالمی جنگ کے دوران سوم کے معرکے کی صد سالہ تقریبات کے موقع پر برطانوی شہزادے ولیم نے بھی مرنے والوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔ 141 دن تک جاری رہنے والی اس لڑائی میں تقریباً دس لاکھ افراد ہلاک، زخمی اور لاپتہ ہوئے تھے۔

فرانس میں منعقد ہونے والی اس تقریب میں برطانوی شہزادے ولیم نے اپنی اہلیہ کیٹ کے ساتھ شرکت کی۔ انہوں نے اس معرکے کے دوران ہلاک ہونے کے برطانوی فوجیوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔ شہزادہ ولیم کے مطابق، ’’ہم نے ایک نسل کے پھولوں کو کھو دیا۔ بعض اوقات ایسا لگتا ہے کہ ان کے ساتھ برطانوی زندگی کے حوالے سے امید بھی غائب ہو گئی تھی۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ یہ برطانوی قوم کی طویل تاریخ میں کئی حوالوں سے افسوس ناک دن ہے۔ اس سلسلے میں برطانیہ میں بھی ایک تقریب منعقد ہوئی، جس میں ملکہ برطانیہ الزبتھہ بھی شریک ہوئیں۔

اس سلسلے میں آج شب تقریباً بارہ لاکھ افراد کو یاد کرنے کے لیے شمعیں جلانے کی ایک تقریب بھی منعقد ہو گی، جو معرکہ سوم کے دوران ہلاک، زخمی یا لاپتہ ہوئے ہیں۔ اس تقریب میں بھی شہزادہ ولیم، ان کی اہلیہ کیٹ اور بھائی ہیری شریک ہوں گے۔اس کے علاوہ فرانس، آسٹریلیا، کینیڈا، جرمنی ، نیوزی لینڈ، بھارت اور پاکستان کے فوجی بھی اس موقع پر موجود ہوں گے۔ جرمنی کی جانب سے ان تقریبات میں سابق صدر ہورسٹ کوہلر شریک ہو رہے ہیں۔ شہزادہ ولیم کے مطابق، ’’آج ہم انہیں یاد کریں گے اور ہم پہلی عالمی جنگ کو روکنے کے تناظر میں یورپی حکومتوں کی غلطی کو تسلیم کریں گے۔‘‘

1916ء میں بیٹل آف دی سَوم کے نام سے مشہور یہ لڑائی یکم جولائی سے لے کر اٹھارہ نومبر تک جاری رہی تھی۔ یہ لڑائی میں جرمن ٹھکانوں کے خلاف برطانیہ اور فرانس کے اتحادی دستوں کی ساڑھے چار مہینے تک جاری رہی تھی۔ اسے پہلی عالمی جنگ کی خونریز ترین لڑائی قرار دیا جاتا ہے۔

شمالی فرانس میں دریائے سوم کے قریب اس لڑائی کا آغاز ہوا تھا اور اسی وجہ سے اسے بیٹل آف سوم کا نام دیا گیا۔ اس جنگ کے شروع ہونے کے ساتھ ہی پہلے روز تقریباً بیس ہزار برطانوی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ تقریبا پانچ ماہ تک جاری رہنے والی اس جنگ کے اختتام پر بھی دولت مشترکہ کے دستے سلطنت جرمنی کی فوجوں کو پسپا کرنے میں ناکام رہے تھے۔