1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

معروف مسلم وکیل کا قتل، سوچی نے خاموشی توڑ دی

میانمار کی رہنما سوچی نے مسلمان وکیل کونی کی دن دیہاڑے ہونے والی ہلاکت پر اپنی خاموشی توڑتے ہوئے اس قتل کو ملک میں جمہوریت کے فروغ کی کوششوں کے لیے ایک ’بڑا نقصان‘ قرار دے دیا ہے۔ کونی کو انتیس جنوری کو ہلاک کیا گیا تھا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے میانمار کی حکمران پارٹی کی رہنما آنگ سان سوچی کے حوالے سے بتایا ہے کہ مسلمان وکیل کونی کی ہلاکت ملک میں جمہوریت کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔ چھبیس فروری بروز اتوار ینگون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ کونی کی ہلاکت ان کی سیاسی پارٹی نیشنل فرنٹ کے لیے بھی ایک بڑا نقصان ہے۔ کونی نہ صرف حکمران جماعت نیشنل فرنٹ کے اعلیٰ رکن تھے بلکہ وہ سوچی کے ایک اہم مشیر بھی تصور کیے جاتے تھے۔

میانمار میں مسلمان وکیل کو کس نے قتل کیا؟
میانمار: شمالی راکھین میں فوجی آپریشن روک دیا

میانمار کا بحران اور روہنگیا کم سِن دلہنیں

انتیس جنوری کو، ینگون ایئر پورٹ کے باہر کونی کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ وہاں موجود ایک ٹیکسی ڈرائیور نے انہیں بچانے کی کوشش کی تھی لیکن حملہ آور نے اسے بھی ہلاک کر دیا تھا۔ اس کارروائی کے دوران حملہ آور کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔ حکام کے مطابق ایک سابق فوجی نے اس حملہ آور کی خدمات حاصل کی تھیں، جو اب مفرور ہے۔

اتوار کے دن ینگون میں کونی کی یاد میں ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا، جس میں سوچی بھی شریک ہوئیں۔ اس موقع پر سوچی نے کونی کی ہلاکت پر اپنے پہلے عوامی بیان میں مزید کہا کہ یہ ایک ’سیاسی قتل‘ ہے۔ انہوں نے کہا کہ دراصل یہ نیشنل لیگ کی پالیسیوں کے خلاف ’ایک دہشت گردانہ حملہ‘ ہے۔

آئینی ماہر کونی ملکی فوج کی پالیسیوں کے سخت ناقد تھے۔ وہ میانمار میں بڑھتے ہوئے اسلامو فوبیا کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بناتے تھے۔ اس جنوب مشرقی ایشیائی ملک میں حالیہ عرصے کے دوران کٹر نظریات کے حامل بدھ عوام کی طرف سے روہنگیا مسلمان کمیونٹی پر مبینہ ظلم و ستم کی خبریں بھی گردش کر رہی ہیں۔ ایسے الزامات بھی عائد کیے جاتے ہیں کہ میانمار کی سکیورٹی فورسز بھی اس اقلیت کے خلاف کریک ڈاؤن کر رہی ہے۔

اتوار کے دن ینگون میں کونی کی میموریل سروس کے دوران سوچی نے اگرچہ کوئی سیاسی بیان نہیں دیا تاہم انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ صبر وتحمل کا دامن ہاتھ سے مت چھوڑیں۔ انہوں نے کہا کہ عشروں تک جاری رہنے والی آمریت کے بعد حکومت کو اقتدار میں آئے ہوئے ابھی صرف دس ماہ ہی ہوئے ہیں جبکہ حالات میں بہتری کی کوشش جاری ہے اور جلد ہی صورتحال بہتر ہو جائے گی۔

DW.COM