1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

معروف افغان اداکارہ کو درپیش خطرات

جب مینا امانی نے پہلی مرتبہ اپنے سکول کے چھوٹےسے تھیٹر میں کام کیا تو اس کو یہ علم نہیں تھا کہ اتنی چھوٹی سی پرفارمنس کی وجہ سے اس کے لیے اتنے زیادہ نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے اور اسے جان کی دھمکیاں بھی ملنے لگیں گی۔

default

پانچ سال پہلے افغانستان کے مغربی صوبے ہرات کے دارالحکومت میں امانی کا ڈرامہ دیکھنے والوں میں چند مقامی فلم ساز اور اداکار بھی موجود تھے۔ ان کو صوبہ ہرات میں اداکاراؤں کی سخت ضرورت تھی۔ افغانستان میں خواتین اداکاروں کا کام اسلام کے خلاف سمجھا جاتا ہے اور زیادہ تر ماں باپ اپنی بچیوں کو سکول بھی نہیں جانے دیتے۔

سترہ سال کی عمر میں سکول کی اس طالبہ نے وہ پیشہ اپنایا، جو طالبان کے دور میں ممنوع تھا۔ یوں مینا امانی فلموں، ٹی وی شوز اور اشتہارات میں کام کرنے لگی اور شوقیہ گلوکاروں کے شو ’افغان سٹار‘ کی میزبان بھی بنی۔ اس طرح مینا امانی نہ صرف خود ایک سٹار بن گئی بلکہ پورے ملک میں اس کے پرستاروں کی تعداد بھی بہت زیادہ ہوگئی۔

لیکن مینا کی شہرت، اداکاری اور پرانی رسموں سے مقابلہ کرنے کی سوچ کی وجہ سے اس کے شہر کے قدامت پسند لوگ غصے میں تھے۔ ان کی نظروں میں وہ ان کی معاشرتی بے عزتی کی وجہ بن رہی تھی۔

مینا امانی کہتی ہے، ’مجھے لوگوں کے فون آنے لگے، جن میں کہا گیا کہ مجھے یہ کام چھوڑ دینا چاہیے۔ یہ ہمارے رسم و رواج کے خلاف ہے۔ اگر میں یہ کام نہیں چھوڑتی تو پھر مجھے نتائج کا سامنا کرنا ہو گا۔‘ شروع میں امانی نے ان باتوں پر غور نہ کیا، اس کو لگا کہ یہ صرف خالی دھمکیاں تھیں۔

لیکن سال رواں کے دوران ایک دن دو آدمیوں نے اس کا پیچھا کیا، جن کے چہرے ڈھکے ہوئے تھے اور جو موٹر سائیکل پر سوار تھے۔ امانی کا کہنا ہے، ’خوش قسمتی سے میں اپنے گھر کے قریب تھی اور دروازہ کھلا تھا۔ ورنہ شاید وہ میری جان لے لیتے، یا میرے جسم پر تیزاب پھینک دیتے۔‘

اس کے بعد سے مینا امانی چُھپنے لگی ہے اور صرف برقعے میں باہر جاتی ہے۔ وہ ایک نئی جگہ شفٹ ہو گئی ہے۔ اس نے اپنی تمام پرفارمنسز بند کر دی ہیں۔

لیکن اس کے عوامی منظر سے غائب ہونے کے نتیجے میں اس کےخلاف غصہ کم نہیں ہوا۔ امانی اور چند مقامی باشندوں کے مطابق ایک مقامی مسجد کے امام نے 24 جون کو اپنے ایک خطبے میں کہا کہ امانی ہرات کے لیے شرمندگی کی وجہ بنی اور اسی لیے لوگوں کو اس کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے۔

امانی کے شوہر کے مطابق اس کو بھی دھمکیاں دی گئی ہیں۔ ہرات کےایک ریستوراں میں، جہاں امانی اور اس کا شوہر جرمن خبر ایجنسی DPA کےایک نامہ نگار کو ملنے پر آمادہ ہوئے، امانی کے شوہر کا کہنا تھا، ’شادی سے پہلے میری زندگی سادہ اور معمول کے مطابق تھی۔ اب ہر روز لوگ پوچھتے ہیں کہ میں اپنی بیوی کو اداکاری کیوں کرنے دیتا ہوں۔ خود کوئی نوکری کر کے کچھ رقم کیوں نہیں کماتا؟‘

امانی ایک غیر قانونی سفر کر کے ایران اور ترکی کے راستے یورپ جانے پر تیار تھی۔ اس کا کہنا ہے، ’خدا کی قسم، میں راستے میں مرنے کے لیے تیار ہوں، لیکن یہاں ٹھہرنے پر نہیں‘۔

اس انٹرویو کے ایک روز بعد مینا امانی ہرات سے کسی دوسری نامعلوم جگہ کے لیے رخصت ہو گئی تھی۔

رپورٹ: راحل بیگ

ادارت: مقبول ملک

DW.COM