1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مقامی ہیروز

’معذوروں کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے والا ‘ شفیق الرحمان

پاکستان میں معذور افراد کے لیے خدمات سر انجام دینے والوں میں ایک بڑا نام محمد شفیق الرحمان کا بھی ہے۔ لاہور شہر میں پیدا ہونے والے شفیق الرحمان نے جب ہوش سنبھالا تو انہیں پتہ چلا کہ وہ چلنے پھرنے کی صلاحیت سے محروم ہے۔

انتالیس سالہ محمد شفیق الرحمان کو اُن کے بچپن میں پولیو کی جو دوا دی گئی تھی اس کی میعاد ختم ہو چکی تھی۔ اسی وجہ سے دوا کا اثر نہ ہو سکا اور وہ معذوری کا شکار ہو گئے۔ وہ کہتے ہیں، ’’خواہش کے باوجود مجھے عام سکول میں داخل نہیں کروایا گیا۔ میرے والدین کا خیال تھا کہ وہاں بچے میرا مذاق اڑائیں گے اور یوں مجھ میں اعتماد پیدا نہیں ہو سکے گا۔ اس سکول میں، میں رینگ رینگ کر چلتا تھا، میں نے کبھی آسمان نہیں دیکھا تھا۔ مجھے سکول کے برآمدوں میں چلتی ہوئی اپنی ٹیچر کے جوتے اور گھٹنے ہی نظر آتے تھے۔ میں معذوری کی وجہ سے لوگوں کے چہرےآسانی سے نہیں دیکھ پاتا تھا۔"

ماضی کو یاد کرتے ہوئے شفیق کا کہنا تھا، ’’ایک مرتبہ ہمارے سکول میں ایک غیر ملکی خاتون آئیں۔ انہوں نے پیار سے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور پھر پنے ہاتھوں کو ٹشو پیپر سے اچھی طرح صاف کر لیا۔ مجھے یہ اچھا نہیں لگا۔ یہی وہ لمحہ تھا جب میں نے یہ فیصلہ کیا کہ میں نہ صرف اپنی بلکہ دوسرے معذور افراد کی معذوری کو ان کی مجبوری نہیں بننے دوں گا۔‘‘

شفیق الرحمان نے اپنے دیگر معذور دوستوں کو اکھٹا کیا اور مائل سٹون سوسائٹی فار دی سپیشل پرسنز کی بنیاد رکھی۔ لاہور کے لارنس گارڈن میں موجود قائد اعظم لائبریری کے سامنے والے باغیچے کا ایک درخت ان دوستوں کی ملاقات کا مقام طے پایا۔ وہ بتاتے ہیں کہ روزانہ میٹنگز ہونے لگیں اور ایک دن ایک بڑے میاں پاس سے گزرے۔ انہوں نے بہت سارے سپیشل پرسنز کو باتیں کرتے دیکھا تو وہ بھی اس محفل میں چلے آئے۔ انہوں نے تنظیم کو رجسٹر کرانے کا مشورہ دیا۔’’ ایک دن پتہ چلا کہ معذور دوستوں کی محفل میں درد دل کے ساتھ شریک ہونے والے یہ بڑے میاں پاکستان کی قومی اسمبلی کے اسپیکر اور کچھ عرصہ بعد میں نگران وزیر اعظم بن گئے۔ یہ معراج خالد تھے انہوں نے معذورو لوگوں کی بہتری کے لیے ہمارا کافی ساتھ دیا۔‘‘

مائل سٹون سوسائٹی فار دی سپیشل پرسنز پیرالائزڈ لوگوں کو مددگار فراہم کرتا ہے اور وہ لوگ جو معذوری کی وجہ سے زیادہ ہل جل نہیں سکتے، انہیں الیکٹرانک وہیل چئیرز مہیا کرتا ہے۔ شفیق کا ادارہ جاپان اور ترقی یافتہ ملکوں کے فلاحی اداروں کی مدد سے استعمال شدہ الیکٹرانک وہیل چیئرز حاصل کرتا ہے اور ان کی مرمت کے بعد مستحق لوگوں کو فراہم کرتا ہے، اب تک ان کا ادارہ 70 افراد کو ایسی وھیل چیئرز مہیا کر چکا ہے، اس ادارے کی کوشش ہے کہ اگلے سال تک سستی الیکٹرانک وہیل چئیرز کی پاکستان میں تیاری شروع ہو سکے۔ یہ ادارہ پاکستان بیت المال کی مدد سے 85 ہزار مینوئل وھیل چیرز بھی تقسیم کر چکا ہے۔

شفیق اپنے ساتھیوں کی مدد سے عوامی مقامات کو معذور افراد کے لیئے قابل رسائی بنانے کے منصوبے پر بھی کام کر رہے ہیں، ان کی کوششوں سے لاہور ڈیویلپمنٹ اتھارٹی نے نئے بلڈنگ رولز بنائے ہیں اب تمام نئے منصوبوں میں معذور افراد کے لیئے رستہ رکھا جائے گا۔ اسی طرح سٹیٹ بنک آف پاکستان نے بھی اس بات کی منظوری دے دی ہے کہ آئندہ پاکستان میں بننے والے ہر بنک میں معذور افراد کے یئے رستہ رکھا جانا ضروری ہوگا۔ ان کی کوششوں سے پنجاب اسمبلی اور لاہور ھائی کورٹ کو معذور افراد کے لیئے قابل رسائی بنایا جا چکا ہے۔ ان کا ادارہ معذور لوگوں کی آگاہی اور تربیت کے لیئے بھی خدمات سرانجام دے رہا ہے۔

مائل سٹون نامی غیر سرکاری تنظیم کے صدر شفیق نے اردو میں ایم اے کرنے کے بعد کمپیوٹر کی تعلیم حاصل کی۔ بعدازاں وہ فیلو شپ کورس کے لیے ایک سکالرشپ پر جاپان چلے گئے۔ انہوں نے جاپان میں سپیشل پرسنز کی بہتری کے لیے موجود ماڈلز کو دیکھا اور پاکستان آکر پھر سے اپنے دوستوں کے ساتھ فلاحی کاموں میں مصروف ہو گئے۔ شفیق ا لرحمان جنیوا میں قائم ورلڈ کانگرس آف ہیومن رائٹس میں معذور افراد کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ انہیں وہیل چیئر کرکٹ کے بانی ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ چار بچوں کے والد شفیق اپنے آپ کو معذور نہیں سمجھتے وہ ایک خوش و خرم زندگی گزار رہے ہیں۔ وہ دوسروں کو بھی اپنے آپ سے پیار کرنے اور اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کا درس دیتے ہیں۔

شفیق الرحمان کہتے ہیں کہ ہر انسان میں کوئی نہ کوئی ڈس ایبلیٹی ہوتی ہے۔کوئی بھی سو فی صد پرفیکٹ نہیں ہوتا۔ ان کے بقول سپیشل پرسنز کا ایک خاص لائف سٹائل ہوتا ہے انہیں تعصب کا نشانہ نہیں بنانا چاہیے۔ ان کے بقول کسی کی معذوری کو اس کا نام بنا دینا بہت ناانصافی ہے۔ اس لیے جب کسی معذور شخص کے نام کے ساتھ گونگا یا بہرا لگایا جاتا ہے تو انہیں بہت تکلیف ہوتی ہے۔ ’’پاکستان بھر میں ہمارے 1800 ارکان ہیں، ہم 152 فلاحی تنظیموں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔ ہم معذور لوگوں کو پاؤں پر کھڑے ہونا سکھاتے ہیں، یوں سمجھیے ہم انہیں مچھلی نہیں دیتے بلکہ مچھلی پکڑنا سکھاتے ہیں۔‘‘ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ وہ عطیات، امداد یا خیرات نہیں لیتے۔ بلکہ پروفیشنل کنسلٹنسی فراہم کرتے ہیں اور مختلف عمارتوں کی رسائی کا آڈٹ کرتے ہیں۔ اس سے حاصل ہونے والی آمدنی سے شفیق اور ان کے ساتھی اپنی تنظیم چلا رہے ہیں۔

شفیق الرحمان کو دکھ ہے کہ جس طرح سیاست بوڑھے سیاست دانوں کو ریٹائر کر دیتی ہے اسی طرح پاکستانی معاشرہ بھی معذور لوگوں کو نظر انداز کر دیتا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے ایک معروف کارکن اسرار شاہ جب دہشت گردی کے ایک واقعہ میں معذور ہوگئے تو ان کی اپنی پارٹی نے انہیں فراموش کر دیا۔ ان کے بقول پاکستان کے سرکاری افسروں کو ڈس ایبلیٹی سے منسلک مسائل کا پتہ تک نہیں ہے، ’’میں دعوٰی کرتا ہوں کہ کوئی بیوروکریٹ مجھے بتا دے کہ وہیل چیئر والے ایک شخص کو کموڈ پر کیسے منتقل کیا جا سکتا ہے۔ یہ میٹرو بس اور اورنج ٹرین سمیت جتنے بڑے بڑے پراجیکٹس بنائے جا رہے ہیں ان میں وہیل چیئر والوں کے لیے راستہ کیوں نہیں بنایا جاتا۔ ہماری کنسٹرکشن کا یہ حال ہے کہ ہم مسجدوں، بینکوں اور ریستورانوں میں صرف اس لیے نہیں جا سکتے کہ وہاں ہمارے لیے کوئی راستہ ہی نہیں بنایا جاتا۔‘‘ وہ کہتے ہیں کہ پاکستان نے معذور افراد کے حوالے سے اقوام متحدہ کے کنونشن پر دستخط کیے تھے لیکن اس بارے میں ملکی صورتحال کی رپورٹ ابھی تک جمع نہیں کروائی جاسکی ہے۔

شفیق ا لرحمان بتاتے ہیں کہ عالمی اعداوشمار کے مطابق دنیا بھر میں 10 سے 15 فی صد لوگ معذوری کا شکار ہیں صرف پاکستان میں ڈس ایبل لوگوں کو قومی ترقی کے عمل میں شامل نہ کیے جانے کی وجہ سے ایک ملین ڈالر روزانہ کا نقصان ہو رہا ہے۔ پاکستان میں کوئی ایسا سرکاری محکمہ نہیں ہے، جو خاص طور پر پاکستان کی معذورآبادی کی فلاح و بہبود کے لیے کام کر رہا ہو۔ ان کے مطابق پاکستان میں معذور افراد کی بہبود کے لیے ایک خصوصی کمیشن بنایا جانا چاہیے۔ وہ کہتے ہیں کہ معذورافراد اور ان کے گھر والوں کی تربیت کے لیے اقدامات کرنے چاہییں اور جو شخص پیرالائز ہو جاتے ہیں ان کی بہتری اور ان کو جدید وہیل چیئر فراہم کرنے کے لیے بھی اقدامات کیے جانے چاہییں۔’’پاکستان کے معذور افراد پاکستان کی ترقی میں بہت اچھا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اگرآپ کو ان کی صلاحیتوں پر یقین نہ آئے تو صرف اولمپکس کے مقابلوں یا دیگر کھیلوں کے نتائج کو ایک نظر دیکھ لیں، معذور افراد کی کامیابیاں کم نہیں ہیں۔‘‘

DW.COM