1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

معتدل طالبان سے مذاکرات ممکن ہیں، جنرل پیٹریاس

افغانستان میں غیر ملکی افواج کے کمانڈر جنرل ڈیوڈ پیٹریاس نے کہا ہے کہ افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کی ڈیڈ لائن پر نظر ثانی کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اگر حالات سازگار نہیں ہوتے تو اس میں تاخیر ممکن ہے۔

default

جنرل ڈیوڈ پیٹریاس

امریکی صدر باراک اوباما نے افغانستان سے امریکی افواج کے محدود انخلاء کا سلسلہ شروع کرنے کے لئے جولائی سن 2011ء کی ڈیڈ لائن رکھی ہے تاہم اتوار کو جنرل ڈیوڈ پیٹریاس نے ایک امریکی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ یہ ڈیڈ لائن پتھر پر لکھی کوئی ایسی تحریر نہیں جو تبدیل نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے کہا کہ اگر افغانستان میں حالات دگر گوں رہتے ہیں تو اس ڈیڈ لائن پر دوبارہ غور کیا جا سکتا ہے۔

اعلیٰ امریکی جنرل ڈیوڈ پیٹریاس نے کہا: ’’ میرے خیال میں صدر اوباما نے بڑی وضاحت سے بیان کیا ہے کہ یہ ایک ’مسلسل عمل‘ ہے نہ کہ فوری طور پر اٹھائے جانے والا کوئی قدم۔ افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کا عمل مشروط ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ وہ یہ حق رکھتے ہیں کہ صدر اوباما کو مطلع کر سکیں کہ آیا افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کا عمل شروع ہونا چاہئے یا نہیں۔

ایک ماہ قبل افغانستان میں ایک لاکھ چالیس ہزار سے زائد فوجی دستوں کی کمان سنبھالنے والے جنرل پیٹریاس نے یہ بھی کہا کہ وہ متعدل طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لئے بھی راضی ہیں۔

ein Jahr Obama Flash-Galerie

جولائی کے دوران ہی افغانستان میں 66 امریکی فوجی ہلاک ہوئے

واشنگٹن پوسٹ کو دئے گئے ایک دوسرے انٹرویو میں جنرل پیٹریاس نے کہا کہ گزشتہ تین مہینوں کے دوران باغیوں کے کوئی 365 رہنما اور24 سو جنگجو یا تو ہلاک کئے گئے ہیں یا گرفتار ۔

جنرل پیٹریاس کے یہ بیانات اس وقت سامنے آئے ہیں جب امریکی عوام میں افغان جنگ کی حمایت میں واضح کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ ابھی جولائی کے دوران ہی افغان جنگ کے دوران 66 امریکی فوجی ہلاک ہوئے۔ سن2001ء میں افغان جنگ کے آغاز کے بعد یہ ماہ امریکی افواج کے لئے خون ریز ترین ثابت ہوا ہے۔

دوسری طرف دو ہفتے قبل ہی ہالینڈ نے اروزگان صوبے میں اپنا فوجی مشن ختم کر دیا ہے جبکہ کینیڈا کی حکومت آئندہ سال قندہار میں اپنے عسکری مشن کو ختم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

دریں اثناء اتوار کے دن افغان حکومت نے کہا ہے کہ افغان اور بین الاقوامی ماہرین کی طرف سے کئے گئے ایک سروے کے مطابق یہ انکشاف ہوا ہے کہ ملک کے شمال میں 1.8 بلین بیرل کے برابر تیل کے ذخائر موجود ہیں۔ اس سال کے آغاز پر افغان حکومت نے کہا تھا کہ افغانستان میں موجود قدرتی ذخائر تین ٹریلین ڈالر کی مالیت کے برابر ہیں۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM