1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’معاہدے کے لیے پندرہ دن ہیں ورنہ کویت سے نکل جائیں‘

یمن میں خانہ جنگی کے موضوع پر کویت میں مذاکرات جاری ہیں اور ابھی تک کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا ہے۔ تاہم اب کویتی حکومت کا صبر کا پیمانہ لبریز ہوتا دکھائی دے رہا ہے اور اس نے فریقین کو ایک دھمکی دی ڈالی ہے۔

کویت کی حکومت نے کہا ہے کہ فریقین کے پاس کسی نتیجے یا معاہدے تک پہنچنے کے لیے صرف پندرہ دن کی مہلت ہے اور اگر اس دوران اگر اتفاق رائے نہ ہوا تو انہیں کویت چھوڑنا ہو گا۔ اقوام متحدہ کے زیر انتظام گزشتہ تین ماہ سے کویت میں یمنی تنازعے کا حل تلاش کرنے کے لیے حوثی باغی اور صدر منصور ہادی کے نمائندے کسی نتیجے پر پہنچنے کے لیے سر جوڑے بیٹھے ہیں تاہم کسی نہ کسی نکتے پر اختلاف راستے کی رکاوٹ بن جاتا ہے۔ ذرائع مطابق مذاکرات میں ناکامی کی بڑی وجہ یہ ہے کہ فریقین اپنے اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں۔

کویت کے نائب وزیر خارجہ خالد الجار اللہ نے العربیہ ٹیلی وژن کو بتایا، ’’ہم نے انہیں پندرہ دن کا وقت دیا ہے اور اگر اس دوران یہ لوگ کسی نتیجے پر نہیں پہنچے تو ہم ان سے کہیں گے کہ وہ یہاں سے چلے جائیں۔ ہم بہت طویل عرصے سے ان کی میزبانی کر رہے ہیں۔‘‘ ابھی گزشتہ ہفتے کو ہی پندرہ دن کے وقفے کے بعد مذاکرات شروع ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے خصوصی مندوب اسمعٰیل ولد شیخ احمد نے کہا کہ یہ مذاکرات شاید اس تنازعے کو حل کرنے اور یمن میں قیام امن کا آخری موقع ہیں۔ ان کے بقول، ’’یہ وقت ایسے اہم فیصلے کرنے کا ہے، جن سے آپ اپنے سچے ارادوں اور قومی ذمہ داریوں کو ثابت کر سکیں۔‘‘

اسمعٰیل ولد شیخ احمد کہتے ہیں کہ شیعہ حوثی باغیوں اور صدر ہادی کے نمائندوں کو اس فائر بندی معاہدے کو مستحکم بنانے کے لیے فیصلے کرنے ہیں، جس پر گیارہ اپریل کو اتفاق رائے ہوا تھا۔ اس فائر بندی معاہدے پر مکمل طور پر عمل درآمد ابھی تک ممکن نہیں ہوا ہے اور بار بار اس کی خلاف ورزی کی جاتی رہی ہے۔ اس کے علاوہ ان مذاکرات میں ایک عسکری کمیٹی بنانے کا بھی فیصلہ کرنا ہے، جس کا کام مورچے خالی کرنے اور اسلحہ واپس کرنے کے عمل کی نگرانی کرنا ہو گا۔ ساتھ ہی فلاحی اداروں کے کاموں میں آسانی پیدا کرنے کا موضوع بھی ایجنڈے میں شامل ہے۔