1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

معاہدہ کوپن ہیگن، ممکن ہو ہی گیا

دو ہفتوں تک شب و روز کی کوششوں کے بعد بلآخر عالمی ماحولیاتی کانفرنس میں شامل رہنما ایک محدود معاہدے پر متفق ہو ہی گئے ہیں۔

default

امریکی صدر باراک اوباما، چینی وزیر اعظم وین جیا باؤ اور جرمن چانسلر انگیلا میرکل سمیت تمام صنعتی اور ابھرتی ہوئی اقتصادی طاقتوں نے ایک دستاویز پر دستخط کر دیے ہیں۔

اس دستاویز کے مطابق عالمی درجہء حرارت میں اضافےکو دو ڈگری سینٹی گریڈ تک محدود رکھنے کے علاوہ ترقی پذیر ممالک کے لئے مالی امدادی

US-Präsident Obama UN Klimagipfel Kopenhagen Pressekonferenz

امریکی صدر باراک اوباما

کے منصوبے پیش کئے گئے ہیں۔

امریکی صدر باراک اوباما نے اس حوالے سے کہا کہ وقت آ پہنچا ہے جب ایسا مستقبل تشکیل دیا جائے، جو سب چاہتے ہیں: 'مجھے یقین ہے کہ ہم نے کوپن ہیگن کی کانفرنس سے جو کچھ حاصل کیا ہے، وہ تحفظ ماحول کی کوششوں کا انجام نہیں بلکہ آغاز ہے۔ یہ اس حوالے سے عالمی کوششوں کے نئے دَور کاآغاز ہے۔ '

تحفظ ماحول کے سلسلے میں طے پانے والے نئے معاہدے میں صنعتی ممالک کے لئے پہلے سے ان کے تجویز کردہ اہداف مقرر کئے گئے ہیں۔ یورپی یونین 2020 ء تک ضرر رساں گیسوں کے اخراج میں بیس سے تیس فیصد تک کی کمی کرے گی۔ جاپان کے لئے یہ شرح پچیس فی صد ہے۔ امریکہ نے تجویز پیش کی ہے کہ وہ چودہ سے سترہ فی صد تک کمی کرے گا۔ چین نے اپنے ہدف کو اقتصادی ترقی سے مشروط کر کے، 2020 ء تک چالیس سے پینتالیس فی صد تک ضرر رساں گیسوں کے اخراج میں کمی کرنے کا اعلان کیا ہے۔ تیزی سے ترقی کرنے والے ممالک اپنی مرضی سے یہ شرح طے کر سکتے ہیں۔ جرمن وزیر ماحولیات نوربرٹ روٹگن نے کانفرنس کے نتائج پر اطمینان ظاہر کیا ہے: ' یقیناً ہم کچھ آگے بڑھے ہیں۔ ایک قدم ہی سہی لیکن یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ اس حوالے سے جو بھی ممکن ہے وہ کرنا چاہئے۔ '

کوپن ہیگن کانفرنس کے بارے میں جرمن چانسلر کی جانب سے ملا جلا

Bundeskanzlerin Angela Merkel Kopenhagen Klimagipfel Rede

جرمن چانسلر انگیلا میرکل

ردعمل سامنے آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے دوران بہت سی مشکلات سامنے آئیں تاہم کم از کم کسی سمت میں پیش رفت تو ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ برس بون میں اسی موضوع پر ہونے والی کانفرنس میں ترقی پذیر اور ترقی کی دہلیز پر کھڑے ممالک کی ذمہ داریوںکے بارے میں فیصلہ کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ تحفظ ماحول کے لئے کام کرنے والی تنظیم گرین پیس نے اسے ایک دانشمندانہ فیصلہ قرار دیا ہے جبکہ کچھ حلقوں کی جانب سے اس پر تنقید کرتے ہوئے اسے ایک مبہم اختتام قرار دیا گیا ہے۔ سوڈان کے نمائندے اومامبا ڈی آپنگ نے اس مسودے کو غیر منصفانہ قرار دیا ہے۔ اس حوالے سے جو مسودہ تیار کیا گیا ہے وہ کانفرنس کمیٹی کو پیش کر دیا گیا ہے۔ اس مسودے پر اقوام متحدہ کے رکن ممالک کا متفق ہونا لازمی ہے۔

رپورٹ: عدنان اسحاق

ادارت: ندیم گِل

DW.COM