1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

معاشی مہاجرت اور ڈاکٹروں کی کمی، ایک عالمگیر مسئلہ

امیر صنعتی ملکوں میں ڈاکٹروں کے لئے روزگار کے حالات خراب ہونے کا نتیجہ ترقی پذیر ریاستوں میں صحت کے شعبے پر منفی اثرات کی صورت میں نکلتا ہے۔ اسی لئے اکثر معاشروں میں ڈاکٹروں کی کمی اب ایک عالمگیر مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔

default

مغربی ملک ترقی پذیر ریاستوں کے ڈاکٹروں کو اپنے ہاں زیادہ سے زیادہ ملازمتیں دیتے ہیں

امیر صنعتی ملکوں میں طبی شعبے کی ترقی اور آبادی میں بزرگ شہریوں کے تناسب میں اضافے کی بناء پر صحت کے شعبے کا سالانہ بجٹ مسلسل زیادہ ہوتا جا رہا ہے۔ ان حالات میں اخراجات میں کمی کے لئے کیا یہ جاتا ہے کہ کم ڈاکٹر زیادہ مریضوں کا علاج کریں یا ڈاکٹروں کا معاوضہ کم کر دیا جائے۔ نتیجہ یہ کہ کئی ملکوں میں ڈاکٹروں کے حالات کار خراب ہوتے جا رہے ہیں اور طبی سہولیات کا معیار کم ہوتا جا رہا ہے۔

یہ رجحان جرمنی میں بھی دیکھنے میں آ رہا ہے۔ جرمنی میں ڈاکٹروں کی وفاقی تنظیم کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کے سب سے زیادہ آبادی والے اس ملک میں بھی ڈاکٹروں کے حالات کار ناگفتہ بہ ہوتے جا رہے ہیں، ان کو ملنے والا معاوضہ غیر منصفانہ ہے اور زیادہ سے زیادہ ڈاکٹروں کے لئے اپنی پیشہ ورانہ اور نجی زندگی کے درمیان توازن قائم رکھنا نا ممکن ہوتا جا رہا ہے۔ جرمنی میں فیڈرل چیمبر آف ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ ملک میں ڈاکٹروں کی کمی کو پورا کرنے کے لئے ان کے حالات کار میں بہتری لانا ضروری ہے۔

SARS Röntgenbild mit Thumbnail

ہر سال صحت کے شعبے سے وابستہ ہزاروں افراد مغربی ممالک کا رخ کرتے ہیں

مغربی صنعتی ممالک ڈاکٹروں کی کمی کو پورا کرنے کے لئے ترقی پذیر ریاستوں کے ان ڈاکٹروں کو اپنے ہاں زیادہ سے زیادہ ملازمتیں دیتے ہیں جو خود اپنے ملکوں میں روزگار کے حالات کو ناقابل برداشت سمجھتے ہیں۔ ایسے غیر ملکی معالج جرمنی یا یورپ کے کسی دوسرے ملک میں ملازمت اس لئے قبول کر لیتے ہیں کہ یوں انہیں کم ازکم اپنے ذاتی حالات کار میں بہتری کی ضمانت مل جاتی ہے۔ اس تناظر میں ماہر ڈاکٹروں کا معاشی وجوہات کی بناء پر ترک وطن ایک عالمگیر مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔

اس کا ایک ثبوت یہ کہ برطانیہ کے صرف ایک شہر مانچسٹر میں افریقی ملک ملاوی سے آنے والے اتنے زیادہ ڈاکٹر اور نرسیں کام کرتے ہیں، جتنے کہ خود پورے ملاوی میں بھی نہیں۔ اسی پس منظر میں ابھی حال ہی میں برلن منعقدہ ایک کانفرنس میں ملاوی میں نرسوں کی ایک تنظیم کی نمائندہ ایک خاتون نے بتایا کہ ملاوی میں ڈاکٹروں کی اتنی کمی ہے کہ وہاں ہر 65 ہزار شہریوں کے لئے صرف ایک ڈاکٹر دستیاب ہے۔

اسی طرح نائیجیریا اور دیگر افریقی ملکوں کی صورت حال بھی بہت بہتر نہیں ہے۔ لیکن برطانیہ اور جرمنی جیسے ملکوں میں مقامی ڈاکٹروں کو دیکھا جائے تو ان کی ایک بڑی تعداد ہر سال ترک وطن کر کے امریکہ چلی جاتی ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق یہ امر ماہر ڈاکٹروں میں ترک وطن کے اسی رجحان یا brain drain کا نتیجہ ہے کہ افریقہ اور ایشیا کے کئی ملکوں کو بحرانی حد تک طبی ماہرین کی کمی کا سامنا ہے۔ WHO کے اعدادوشمار کے مطابق 2008 میں دنیا بھر میں ڈاکٹروں اور ماہر نرسوں کی کمی کا اندازہ قریب چار ملین لگایا گیا تھا۔

رپورٹ: مقبول ملک

ادارت: عاطف بلوچ