1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

معاشی اصلاحات: کیوبا کی ترجیحات بدل رہی ہیں

کیوبا غیر ملکی امداد کے ہمیشہ خلاف رہا ہے،بعض یورپی مملک وہاں کے کسانوں کی مدد کی کوششوں میں لگے تھے۔ ماضی میں تو کیوبا حکومت نے ان کوششوں کی سخت مخالفت کی لیکن اب ایسی امداد کے لئے تیار نظر آرہی ہے۔

default

کیوبا کے صدر راؤل کاسترو

سال 2011 کے آغاز سے سپین ان قرضوں کی مد میں ایک چھوٹی رقم کیوبا کو دے گا، اور اُمید ہے کہ اب جبکہ کیوبا حکومت اپنی سوشلسٹ معیشت میں جدت لانے کے لئے اقدامات کر رہی ہے تو یہ امداد آہستہ آہستہ بڑھے گی۔

اس قرضے کی پہلی قسط کے تحت سپین کی ایجنسی برائے بین الاقومی ترقی آئندہ سال تقریباﹰ چھ لاکھ 80 ہزار ڈالر کی رقم کیوبا کے زراعی شعبے کے لئے دے گی۔

اس قسم کی امداد کو 'مائیکرو کریڈت' کہا جاتا ہے جو 1980ء کی دہائی میں بنگلادیش کی معیشت کی مدد کے لئے بنائے گئے تھے۔ تاہم کیوبا کی حکومت ایک طویل عرصے تک ایسے قرضون کے خلاف رہی۔ وہاں کے حکام کو لگتا تھا کہ یہ چھوٹے قرضے ملک کے سوشلسٹ اصولوں کے خلاف ہیں، خاص کر اگر وہ غیرملکی ذرائع سے آئیں۔

Kaffeeernte in Nicaragua

'مائیکرو کریڈت'کی مدد سے کیوبا کے کسان ، اپنی پیداوار بڑھانے کے لئے ہر طرح کی اشیاء درآمد کر سکیں گے

مغربی سیاسی ماہرین کے مطابق کیوبا میں سال 2008 میں آنے والے تین سمندری طوفانوں نے ملک کی معیشت کو کافی نقصان پہنچایا ہے اور اسی وجہ سے کیوبا حکومت ان قرضون کے بارے میں سوچ رہی ہے، البتہ اس کا اظہار نہیں کر رہی۔

ان قرضوں کی مدد سے کیوبا کے کسان ، اپنی پیداوار بڑھانے کے لئے ہر طرح کی اشیاء درآمد کر سکیں گے۔

کیوبا کے صدر راؤل کاسترو نے زراعت کے شعبے میں پیداوار بڑھانے کی لئے متعدد اصلاحات متعارف کرائی ہیں اور اسی حوالے سے انہوں نے اگلے چھ مہینے میں پانچ لاکھ سرکاری ملازمین کو برطرف کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان ملازمین کو نجی شعبے میں ملازمتیں کرنے کی اجازت دی جائے گی۔ راؤل کاسترو کی جانب سے 2008 میں حکومت سنبھالنے کے بعد اصلاحات کے لئے یہ سب سے بڑا قدم ہوگا۔

ان تمام تبدیلیوں نے کیوبا کو یورپی ممالک کے پالیسی سازوں کے لئےپرکشش بنا دیا ہے۔کیوبا آئی ایم ایف یا عالمی بینک جیسےکسی بھی عالمی مالیاتی ادارے سے تعلق نہیں رکھتا اور اسی لئے اسے مائیکرو فنانس کے لئے اپنے دوست ممالک پر ہی انحصار کرنا پڑے گا۔

سپین کے علاوہ 27 ممالک پر مبنی یورپی یونین بھی کیوبا کے معاشی حالات بدلنے میں مدد کرے گی۔ اس کے علاوہ برازیل نے بھی کیوبا کی مدد کا اعلان کیا ہے۔

رپورٹ: سمن جعفری

ادارت: ندیم گِل

DW.COM

ویب لنکس