1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

معاشی استحکام ، نیپال میں شاپنگ مالز کےکلچرمیں اضافہ

نیپال کے دارالحکومت اور اس کے اطراف کے علاقوں میں زمین کی قیمت میں اضافے اور نیپالی مہاجرین کی ترسیل کردہ رقوم کا حجم بڑھنے کے باعث ملک کے متوسط طبقے میں شاپنگ مالز کا رخ کرنے کا رجحان خوب پروان چڑھ رہا ہے۔

default

نیپال کے قدیم شہر کھٹمنڈو میں جب پہلے شاپنگ کامپلیکس کا 1980ء میں افتتاح ہوا تو اس شہر کے باسیوں کے لیے یہ اتنی انوکھی چیز تھی کہ یہاں آنے والوں کو یہ سیکھانا پڑا کہ خودکار سیڑھیوں یا escalator کا کس طرح سے استعمال کیا جائے۔

اپنے تقافتی ورثہ اور تاریخی محلات کے حوالے سے شہرت رکھنے والے اس شہر کے لوگوں نےکبھی اپنے صدیوں پرانے بازاروں کے علاوہ کہیں خریداری نہیں کی تھی۔ تاہم تین دہایئوں بعد اب صورتحال یکسر مختلف ہو گئی ہے اور اب اسی تبدیلی کو دیکھتے ہوئے Adidas، Nike اور Levi's جیسے معرف برانڈز نے بھی ملک میں اپنے پہلے اسٹورز کا افتتاح کر دیا ہے۔

China Inflation

نیپال کا نوجوان طبقہ اب شاپنگ مالز سے خریداری کرنے پر مائل ہے

شہر میں آنے والے سیاحوں کو ہاتھ کی بنائی ہوئی اشیاء یا ہینڈی کرافٹس فروخت کرنے کے کاروبار سے منسلک ہزاروں نوجوانوں میں 21 سالہ روکین مہارجن (Rukeen Maharjan) بھی ہیں۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے مہارجن بتاتے ہیں کہ اپنے فارغ اوقات میں وہ کھٹمنڈو میں درجن کے قریب قائم شاپنگ مالز میں سے کسی ایک میں کپڑوں کی خریداری اور دوستوں سے گپ شپ کرنے ضرور جاتے ہیں کیونکہ یہ جگہ نوجوانوں کے آپس میں میل ملاپ کے لیے بھی پسندیدہ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اب جبکہ ایک چھت کے نیچے معرف برانڈز ایک ساتھ موجود ہوں توخریداری کرنا زیادہ آسان ہو جاتا ہے۔ ان کے مطابق یہاں شاپنگ کرنا، سڑکوں پر خریداری کرنے سے نہ صرف سستا پڑتا ہے بلکہ زیادہ باسہولت بھی ہے کیونکہ اس طرح گاڑی کی پارکنگ جیسی پریشانی سے بھی بچ جاتے ہیں۔

Mahashivaratri-festival in Indien

نیپال کا شمار دنیا کے غریب ممالک میں ہوتا ہے

نیپال دنیا کے غریب ترین ممالک میں سے ایک ہے اور عالمی بینک کے مطابق یہاں کی سالانہ اوسط آمدنی 440 یورو فی شہری ہے۔ عالمی بینک کے مطابق ملک میں سیاسی غیر یقینی اور ایندھن میں تیزی سے ہوتی ہوئی کمی کے باعث معیشت بڑھنے کی رفتار بھی کافی سُست ہے۔ تاہم بینک کے مطابق بھارت، ملیشیاء اور خلیجی ممالک سے نیپالی مہاجرین کی ترسیل کردہ رقوم نے ملک کے متوسط طبقے کی قوت خرید میں ضرور اضافہ کر دیا ہے۔

جنوبی ایشیا میں تجارت، معیشت اور ماحول پر کھٹمنڈو کے تحقیقی گروپ سے تعلق رکھنے والے تجزیہ نگار Chandan Sapkota کے مطابق عوام کی قوت خرید میں ہونے والا یہ اضافہ زمین کی قمیتوں میں ہونے والے بے پناہ اضافے، بیرون ملک سے بھیجی جانے والی رقوم اور ملکی درآمدات میں بہتری ہونے کے باعث متوسط طبقہ معاشی استحکام کی جانب بڑھ رہا ہے۔ اب لوگ عام دکانوں کے بجائے ان مالز میں خریداری کرنےکی جانب زیادہ راغب ہیں۔

ادھر ماہر سماجیات ڈاھل(Dahal) کے مطابق ملک میں شاپنگ مالز سے خریداری کرنے کا یہ کلچر برقرار رہے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ آمدنی میں اضافے کے سبب نیپالی صارف ان مالز سے فراہم کی جانے والی خدمات اور سہولیات سے مستفید ہونے کی جانب راغب ہوتے جا رہے ہیں۔

رپورٹ: عنبرین فاطمہ

ادارت:عدنان اسحق

DW.COM