1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

معاشیات کا نوبل انعام ، دو امریکیوں کے نام

امریکہ سے تعلق رکھنے والے معاشی امور کے دو محققین اس سال کا نوبل انعام جیتنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

default

کمپیوٹر اسکرین پر امیرییکی محققین کی تصاویر

امریکہ سے تعلق رکھنے والے معاشی امور کے دو محققین اس سال کا نوبل انعام جیتنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ اولیور ولئم سن اور الینوراوسٹروم نامی ان محقیقین کو مشترکہ طورپر نوبل انعامات کے سلسلے کے آخری ایوارڈ کا حقدار قراردیا گیا ہے۔

اوباما کو امن کا ایوارڈ دینے کے بعد بھی نوبل جیوری کی جانب سے اس سال کے فاتحین کے چناؤ پر لوگوں کی حیرت کا سلسلہ جاری رہا۔ معاشیات کے انعام کی شریک حقدار الینوراوسٹروم کو اس شعبے میں انعام جیتنے والی پہلی خاتون ہونے کا اعزاز حاصل ہو گیا ہے۔

اوسٹروم کو معیشی انتظام بالخصوص عوامی سطح پر، جبکہ ولئم سن کو بھی معیشی نظام بالخصوص کسی فرم کی حدود سے متعلق انکی تحقیق پرنوبل انعام دیا گیا۔

رائل سویڈش اکیڈمی برائے سائنس کے بقول اوسٹرم اور ولئم سن کے نظریات نے ثابت کردیا ہے کہ معاشی تجزئے سے سماجی نظام کی بہت ساری اقسام کو سمجھنے میں مدد لی جاسکتی ہے۔ ایوارڈ دینے والی کمیٹی کے رکن پیٹر انگلنڈ کے مطابق ’انہوں نے قدرتی وسائل کے استعمال کے معاملات پر کام کیا، مثال کے طورپر پانی اور مچھلی کے ذخائر وغیرہ۔ اپنی فیلڈ سٹڈی میں الینور اوسٹرم نے ثابت کردیا کہ کس طرح تمام وسائل کو مشترکہ طور پر بہترین طریقے سے کام میں لایا جاسکتا ہے۔

Elinor Ostrom / Nobelpreis für Wirtschaft 2009

چھہتر سالہ اوسٹرم اپنی تحقیق، (گورننگ دا کومنز ۔دا ایولوشن فار کلیکٹو ایکشن) نامی کبات میں شائع کرچکی ہیں۔

ستتر سالہ معیشی محقق ولئم سن نے اپنی انعام یافتہ تحقیق پر ذیادہ کام ستر کی دہائی میں کیا تھا۔ اس میں انہوں نے ثابت کیا تھا کہ زیادہ موثر ہونے کی وجہ سے کس طرح روایتی طرز کے انتظامات بعض اوقات منڈی کے اصولوں سے بھی تیزی سے فروغ پاتے ہیں۔

چھتر سالہ اوسٹرم نے اپنی تحقیق، جوکہ زیادہ تر ساتھی انعام یافتہ محقق ولئم سن کے کام سے متاثر ہے، ایک کتاب (گورننگ دا کومنز ۔دا ایولوشن فار کلیکٹو ایکشن) میں شائع کرچکی ہیں۔ اوسٹروم کا ایوارڈ جیتنے پرکہنا تھا ’مجھے بالکل اندازہ نہیں تھا کہ میں معاشیات کا نوبل انعام جیتے والی پہلی خاتون ہوں۔ مجھے انتہائی حیرت ہورہی ہے اور میں بہت خوش ہوں‘

معاشی امور کے ماہرین کے بقول ان کی تحقیق نے اس ضمن میں ایک نیا نظریہ پیش کیا ہے کہ کس طرح انسانی معاشرے محدود وسائل کا بہترین استعال کریں۔

منگولیا اورچین کی بعض چراہ گاہوں پراپنی تحقق سے اوسٹروم نے یہ دکھایا کہ جہاں منڈی نہیں ہوتی وہاں قدرتی وسائل کے استعمال سے متعلق کس طرح مقامی طور پر طریقہ کار بن جاتے ہیں۔ سیٹیلائٹ تصاویرسے ان کی بات درست ثابت ہوئی کہ منگولیا اور روس کی وہ چراہ گاہیں حکومتی انتظام میں آنے کے بعد زیادہ متاثر ہوئیں جبکہ اس سے پہلے وہاں اس قسم کے مسائل نہیں تھے۔ اس سال نوبل انعامات کے فاتحین میں سب سے زیادہ تعداد امریکی محقیقن کی رہی۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: عدنان اسحاق